اعتراض:توہین حدیث اور دیوبندی

الزام نمبر 8:
توہین حدیث اور دیوبندی:
مذہب کے
خلاف حدیث مل
جائے تو اس
کوچھوڑدینامقلد
پر فرض ہے۔
تقلید کی
شرعی حیثیت تقی
عثمانی ص 87
مقلد کے
لیے قرآن وسنت
اجماع و قیاس دلیل
نہیں بلکہ قول
امام اس کی
دلیل ہوجاتی ہے
۔
ارشاد ا لقاری
مفتی رشید احمد
ص 417 ص 288
ہرآیت یا
حدیث نبوی جو
ہمارے اماموں کے
خلاف ہوگی وہ
منسوخ یا قابل تاویل
ہوگی۔
اصول کرخی،
ص 12
محمود الحسن
صاحب رقمطراز ہیں
کہ آپ ہم
سے وجوب تقلید
کی دلیل کے طالب
ہیں ہم آپ
سے وجوب اتباع
محمدی صلى الله
عليه وسلم ووجوب
اتباعِ قرآنی کی
سند کے طالب ہیں
۔
ادلہ کاملہ
ص 78
احناف کے
نزدیک قرآن وسنت
دلیل نہیں قابل
تاویل ہے اور
اقوال ائمہ ناقابل تاویل
ہیں۔
مفتی رشید
احمد صاحب ارشادالقاری ص
288
پر
لکھتے ہیں
عبار ت
فقہیہ چونکہ ناقابل
تاویل ہیں۔
) موازنہ کیجئے صفحہ 22 ۔ (23
جواب:
شاہ صاحب
نے لوگوں سے
اصل حقائق چھپانے
کے لیے وہ
عبارات پیش کی ہیں
جن کوپڑھ کر
عوام الناس یہ
سمجھیں کہ حنفیوں
کے نزدیک قرآن
وحدیث کوئی چیز نہیں
اصل چیز ائمہ
کی تقلید ہے
حالانکہ حنفیوں کایہ
نظریہ نہیں ہے
بلکہ احناف کانظریہ ہے
کہ متبحر عالم
اگر امام ابوحنیفہ
یا ان کے
کسی مقلد کی
کوئی بات قرآن وحدیث
کے خلاف سمجھے
تو وہ قرآن
وحدیث کومقدم رکھے
اور قرآن وحدیث
کو ترجیح دے نہ
کہ ائمہ کے
اقوال کو۔ لیکن
عوام الناس اور
کم علم والوں
کو اس کی
قطعاًاجازت نہیں
کہ وہ بغیر
کسی عالم کی
تحقیق کے اپنی
مرضی سے ائمہ
کے اقوال کوچھوڑ
دے اس
کے لیے
ائمہ کی تقلید
ضروری ہے۔اس موضوع
پر چند حوالے
ملاحظہ فرمائیں:
مولانامفتی محمد تقی عثمانی کی رائے:
شیخ الاسلام
حضرت مولانا مفتی
محمد تقی عثمانی
صاحب دامت برکاتہم
نے اپنی کتاب تقلید
کی شرعی حیثیت
میں ص 85 تا
144
پر
اس موضوع پر
کافی وشافی بحث
فرمائی ہے۔ اس
میں سے دومقام
ملاحظہ فرمائیں تاکہ
شاہ صاحب کی
کذب بیانی سے بچ
کے صراط مستقیم
پر چلنے میں
آسانی ہو۔
مفتی تقی
عثمانی ص 114 پر
لکھتے ہیں:
بہر حال
علماء اصول کی
مذکورہ بالاتصریحات کی
روشنی میں ایک
متبحر عالم اگرکسی
مسئلے کے تمام
پہلوؤں اور ان
کے دلائل کا
احاطہ کرنے کے
بعد کم از
کم اس مسئلہ میں
اجتہاد کے درجہ
تک پہنچ گیا
ہو )خواہ پوری
شریعت میں مجتہد
نہ ہو (تو
وہ فیصلہ کرسکتا ہے
کہ میرے امام
مجتہد کامسلک فلاں
حدیث کے خلاف
ہے ایسے موقع
پر اس کے لیے
ضروری ہوگا کہ
وہ امام کے
قول کو چھوڑ
کر حدیث پر
عمل کرے۔
مولانا
رشید احمد
گنگوہی رحمہ اللہ
کی رائے
:
فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ تحدیر فرماتے ہیں:
الغرض بعد ثبوت اس امر کے کہ یہ مسئلہ اپنے امام کاخلاف کتاب وسنت کے ہے ترک کرنا ہرمؤمن کو لازم ہے۔ اورکوئی بعد وضوح اس امر کے اس کامنکر نہیں مگر عوام کو یہ تحقیق کیونکرہوسکتی ہے۔
سبیل الرشاد از حضرت گنگوہی رحمہ اللہ تعا لیٰ ص 31 مطبوعہ دہلی، تقلید کی شرعی حیثیت ص 114
مولانا اشر ف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی رائے:
مفتی تقی عثمانی صاحب مولانااشرف علی تھانو ی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
اور اس جانب مرجوح میں گنجاش عمل نہیں بلکہ ترک واجب یا ارتکاب امر ناجائز لازم آتا ہے۔ اور بجز اس کے اس پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی اور جانب راجح میں حدیث صریح موجود ہے۔ اس وقت بلاتردد حدیث پر عمل کرنا واجب ہوگا۔ اور اس مسئلے میں کسی طرح تقلید جائز نہ ہوگی۔ کیونکہ اصل دین قرآن وحدیث ہیں اور تقلید سے بھی یہی مقصود ہے کہ قرآن وحدیث پرسہولت وسلامتی سے عمل ہوجب )کسی مسئلہ میں ( دونوں میں موافقت نہ رہی تو قرآن وحدیث پر عمل ہوگا ایسی حالت میں اسی پرجمے رہنا ہی وہ تقلید ہے جس کی مذمت قرآن وحدیث اور اقوال علماء میں آتی ہے۔
116
، تقلید کی شرعی حیثیت ص 115
مفتی تقی عثمانی صاحب ایک اور مقام پرلکھتے ہیں:
بہر حال مذکور ہ بالاشرائط اور تفصیلات کوپیش نظر رکھتے ہوئے ایک متبحر عالم کسی خاص مسئلے میں اپنے ان امام کے قو ل کو صحیح وصریح حدیث کی بنیاد پر ترک کرسکتا ہے۔ لیکن اس طرح جزوی طور پر امام سے اختلاف کرنے کے باوجود مجموعی طور پر اسے مقلد ہی کہا اورسمجھا جاتا ہے۔
چنانچہ بہت سے فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے اسی بنا پر امام بوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول کو ترک کر کے دوسرے ائمہ کے قول پر فتوی دیا ہے۔ 􁗐
 (1مثلاًانگور کی شراب کے علاوہ دوسری نشہ آوراشیا کو اتنا کم پینا جس سے نشہ نہ ہوامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوت حاصل کرنے کے لیے جائز ہے لیکن فقہا ء حنفیہ نے اس مسئلے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول کو چھوڑ کر جمہور کا قول اختیار کیا ہے۔
(2 اسی طرح مزارعت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناجائز ہے۔ لیکن فقہاء حنفیہ نے امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے مسلک کو چھوڑ کر متناسب حصہ پیداوار کی مزارعت کو جائز قرار دیا ہے۔
یہ مثالیں تو ان مسائل کی ہیں جن پر تمام متأخرین فقہاء حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ امام صاحب کے قول کوترک کرنے پر متفق ہوگئے اور ایسی مثالیں تو بہت سی ہیں جن میں بعض فقہا ء نے انفرادی طور پر کسی حدیث کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول کی مخالفت کی ہے۔
118
، تقلید کی شرعی حیثیت ص117
مذکورہ بالاحوالہ جات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ شاہ صاحب کا علماء دیوبند پر توہین حدیث کا الزام بے بنیاد اور غلط ہے۔
خود غلط  ، املا  غلط  ،  انشاء غلط
دیکھیے ہوتا ہے اب کیا کیا غلط
شاہ صاحب کے گھر کاحوالہ:
اب تک جتنے بھی حوالے نقل کیے گئے ہیں ان کی نسبت مقلدین کے علماء کی طرف ہے۔ اب غیر مقلدین کے عالم کی رائے ملاحظہ فرمائیں اورشاہ صاحب خود بھی دھوکہ سے نکل جائیں اور عوام الناس کوگمراہ نہ کریں ۔
مشہور و معروف غیر مقلد مولوی محمد جونا گڑھی صاحب لکھتے ہیں کہ’’شامی‘‘ میں ہے: 􅃤
اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذہب عمل بالحدیث ویکون ذلک مذہبہ ولایخرج مقلدہ عن کونہ حنیفابالعمل بہ فقد صح عنہ انہ قال اذا صح الحدیث فھومذہبی وقد حکی ذلک ابن عبدالبر عن ابی حنیفۃ وغیرہ من الائمہ ۔
یعنی جب کسی مقلد کوصحیح حدیث مل جائے اور وہ اس کے مذہب کے خلاف تو اسے چاہیے کہ حدیث پر عمل کرے اور اسی کواپنا مذہب سمجھے کوئی حنفی مذہب مقلد ایسا  کرنے سے حنفی اور مقلد ہونے سے خارج نہیں ہوجائے گا۔ اس لیے کہ حضرت امام صاحب کا یہ قول حجت سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ نے فرمایاجو صحیح حدیث میں ہو وہی میرا مذہب ہے اور یہی قول دوسرے اماموں کابھی ہے۔
طریق محمدی ص183
نوٹ: یہ صرف متبحر عالم کے لیے ہے نہ کہ عوام الناس اور کم علم حضرات کے لیے تفصیل پہلے گذر چکی ہے۔
علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں:
اما یسوغ لہ التقلید فھو العامی الذی لایعرف طرق الاحکام الشرعیۃ فیجوز لہ ان یقلدعالمایعمل بقولہولانہ لیس من اہل الاجتھاد فکان فرضہ التقلید کتقلید الاعمی فی القبلۃ فانہ لمالم یکن معہ الۃ الاجتھاد فی القبلۃ کان علیہ تقلید البصیر فیھا۔
الفقہ والمتفقہ صفحہ 68
ترجمہ: ہے جو احکام جائز ہے ؟سو وہ عامی کس کے لیے بات کہ تقلید یہ رہی شرعیہ کے طریقوں سے واقف نہیں یعنی مجتہد نہیں لہٰذا اس کے لیے یہ ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کرے اور اس کے قول پر عمل پیرا ہوآگے قرآن وحدیث سے اس کے دلائل بیان کرنے کے بعدلکھتے ہیں نیز اس لیے کہ وہ )عامی( اجتہاد کا اہل نہیں ہے لہذا اس کافرض یہ ہے کہ وہ بالکل اس طرح تقلیدکرے جیسے ایک نابینا قبلے میں کسی آنکھ والے کی تقلید کرتا ہے اس لیے کہ جب اس کے پاس کوئی اسا  ذریعہ نہیں ہے جس سے وہ اپنی ذاتی کوشش کے ذریعے قبلہ کا رخ معلوم کر سکے تو اس پر واجب ہے کہ کسی آنکھ والے کی تقلید کرے ۔
غیرمقلدین کی قرآن وسنت سے بغاوت:
غیر مقلدین اگرچہ قرآن وحدیث کادعوی کرتے ہیں لیکن حقیقت سے اس کاکوئی تعلق نہیں ۔ جو بھی ان کے چنگل میں پھنس جاتا ہے وہ قرآن وحدیث پر عمل کے قابل نہیں رہتا۔ پھر وہ اندھا اور بہرہ ہوکر اپنی خواہشات پر چلتاہے خواہ اس کی خواہش قرآن وحدیث کے مطابق ہو یانہ ہو۔
بہت سارے مسائل ایسے ہیں جو قرآن وحدیث سے صراحتا ثابت ہیں لیکن غیر مقلدین چونکہ خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں اور ضعیف سے ضعیف حدیث کا سہارا لے کر اعلیٰ درجے کی صحیح حدیث کا اس طرح انکار کرتے ہیں کہ یہ بخاری کی حدیث نہیں ہے۔ اپنے غلط مذہب کے لیے اگر غیر مقلدین کواحادیث میں تاویل بھی کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ بطور نمونہ چندمثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
غیر مقلدین کے نزدیک بغیر طہارت قرآن چھونا جائز ہے:
قرآن کس حالت میں چھونا چاہیے اور کس حالت میں نہیں اس بارے میں قرآن وحدیث کاصریح حکم موجود ہے۔ قرآن کریم میں ہےکہ لا یمسہ الاالمطھرون یعنی قرآن نہیں چھوتے مگر پاک لوگ اور اس طرح بےشمار احادیث قرآن کوطہارت کی حالت میں چھونے پردلالت کرتی ہیں ۔ ان میں سے دواحادیث ملاحظہ فرمائیں ۔
مستدرک حاکم اور دارقطنی میں ہے:
عن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ان النبیصلى الله عليه وسلم لمابعثہ والیا الی الیمن قال لاتمس القرآن الا وانت طاہر
مستدر ک حاکم 3ص 485 ، دار قطنی 1ص 122
ترجمہ: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جب انہیں یمن کاحاکم بنا کربھیجا تو فرمایا کہ تم قرآن کونہ چھونا مگر اس حالت میں کہ تم پا ک ہو۔
عن عبداللہ بن ابی بکر بن حزم ان فی الکتاب الذی کتبہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم لعمروبن حزم ان لایمس القرآ ن الاطاہر
مؤطا امام مالک ص 185
ترجمہ: حضرت عبدا للہ بن ابی بکر بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جوخط عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کولکھاتھا اس میں یہ بات تھی کہ قرآن کو پاک آدمی کے سواکوئی نہ چھوئے۔
علامہ وحید الزمان کی رائے:
غیر مقلد عالم نواب وحید الزمان لکھتا ہے :
وقیل لایشترط الطھارۃ لمس المصحف وجزم بہ الشوکانی وغیرہ من اصحابنا۔
ترجمہ: اور کہاگیا ہے کہ قرآن چھونے کے لیے طہارت شرط نہیں اس پر ہمارے اصحاب میں سے شوکانی نے جزم کیا ہے۔
نزل الابرار 1 ص 9
نواب نور الحسن کی رائے:
نواب نور الحسن لکھتے ہیں:
اگرچہ محدث رامس مصحف جائز باشد
ترجمہ: اگرچہ بے وضو شخص کے لیے قرآن کوچھونا )ہاتھ لگانا(جائز ہے۔
عر ف الجادی ص 15
اکابر غیر مقلدین کی رائے سامنے آنے کے بعد اب ہم قرآن وحدیث کو ترجیح دیں یا ان حضرات کے اقوال کو جوقرآن وحدیث کے محض نام لیوا ہیں ؟
غیر مقلدین کے ہاں نماز کے لیے بدن اور کپڑوں کاپاک ہونا شرط نہیں
نماز کے لیے کپڑوں اور بدن کی پاکی شرط ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے کہ وثیابک فطھر
یعنی
اپنے کپڑوں کوپاک رکھیے۔ اس آیت میں مطلق کپڑوں کی پاکی کا ذکر ہے یعنی ہرحالت میں اپنے کپڑے پاک رکھیے جب عام حالت میں کپڑوں کاپاک ہونا ضروری ہے تو کیا نماز کے لیے ضروری نہیں ؟اسی طرح کپڑوں اور بدن کی پاکی کے بارے میں حدیث میں صراحت آئی ہے۔
عن عائشۃ رضی االلہ عنھا انھا قالت قالت فاطمۃ بنت ابی حبیش لرسول اللہصلى الله عليه وسلم یا رسول اللہ انی لااطھرا فادع الصلوۃ فقال رسول اللہصلى الله عليه وسلم انماذلک عرق ولیس بالحیضۃفاذا اقبلت الحیضۃفاترکی الصلوۃ فاذا ذہب قدرھا فاغسلی عنک الدم وصلی
بخاری 1 ص 414
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ میں پاک ہی نہیں ہوتی تو کیا میں نمازپڑھنی چھوڑ دوں ۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ سے نکلنے والا خون ہے حیض نہیں ہے اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑدے اور جب انداز ہ کے مطابق وہ ایا م گذر جائیں تو خون کودھولے اور نماز پڑھ لے۔
قرآن کی آیت میں صراحتاًکپڑوں کی پاکی ذکر ہے اور حدیث میں بدن کی پاکی ذکر ہے لیکن غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ بدن پر نجاست لگی ہوئی ہواور کپڑے ناپاک ہوں تونماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں آپ غیر مقلدین کی عبارتیں ملاحظہ فرمائیں جس میں مذکور ہے کہ کپڑوں کی نجاست میں کوئی حرج نہیں ۔
نواب صدیق حسن کی رائے:
نواب صدیق حسن لکھتا ہے :
فمن صلی ملابسا لنجاسۃ عامدا فقد اخل بواجب وصلاتہ صحیحۃ۔
الروضۃ الندیہ 1 ص 81
ترجمہ: جس شخص نے جان بوجھ کر نجاست لگے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھی اس نے واجب میں خلل ڈالا البتہ نماز اس کی صحیح ہے۔
یہی نوا ب صدیق حسن اپنی کتاب بدور الاھلہ میں لکھتا ہے:
وطہارت محمول وملبوس راشرط صحت نماز گردانیدن کماینبغی نیست۔
بدورالاھلہ ص 39
نماز کے صحیح ہونے کے لیے اٹھا ئی ہوئی چیز اور پہنے ہوئے کپڑوں کے پاک ہونے کوشر ط قرار دینا مناسب نہیں ۔
نواب نور الحسن کی رائے:
نواب نور الحسن لکھتا ہے :
یادر جامہ ناپاک نماز گزاردونمازش صحیح است۔
عرف الجادی ص 22
یعنی جس نے ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔
قرآن وحدیث تو ہمیں نماز کے لیے اور عمومی حالت میں پاکی کاحکم دے رہاہے لیکن غیرمقلدین کے اکابر ان کو کہہ رہے ہیں کہ ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
غیرمقلدین کے ہاں عورت کی نماز ستر ڈھانپے بغیر بھی ہوجاتی ہے:
عورت کے لیے نماز میں سترڈھانپنے کاحکم قرآن وحدیث سے ثابت ہے لیکن غیر مقلدین کے نزدیک ستر ڈھانپنا ضروری نہیں ۔
قرآن کریم میں ہے:
یابنی آدم خذ واز ا ینتکم عند کل مسجد
یعنی اے بنی آدم تم نمازکے وقت پنی آراش لے لو۔
اسی طرح حدیث شریف میں ہے:
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول االلہ صلى الله عليه وسلم لاتقبل صلوۃ الحائض الابخمار۔
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جوان عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔
ترمذی ا ص 86 ،ابوداؤد ا ص 94
قرآن وحدیث کے بعد غیر مقلدین کے اکابر کی رائے ملاحظہ فرمائیں۔ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
و آنکہ نماز زن اگرچہ تنہا یاباذن یا شوہر یا دیگر محارم باشد بے ستر تمام عورت صحیح نیست پس غیر مسلم است۔
بدور الاھلہ ص 39
ترجمہ: رہی یہ بات کہ عورت کی نماز اگرچہ تنہا ہو یا دوسری عورتوں کے ساتھ ہو شوہر یا دوسرے محارم کے ساتھ ہوتو پورے ستر کے ڈھانپے بغیر نماز نہیں ہوتی تو یہ بات تسلیم نہیں ۔
غیر مقلدین کے یہ صرف چند حوالے ذکر کیے گئے ہیں ورنہ یہ حضرات ہر معاملے میں صرف اپنی خواہشات کوترجیح دیتے ہیں نہ کہ قرآن وحدیث کو اب فیصلہ عوام النا س کوکرناہے کہ یہ حضرات غیر مقلدین قرآن وسنت کے باغی ہیں یا نہیں؟
آج کا اہل حدیث، اہل حدیث نہیں:
حقیقت با ت یہی ہے کہ آج جو حضرات اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ان کاحدیث سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کاتعلق اپنی خواہشات نفسانیہ سے ہے یہ حضرات نفسانی خواہشات کو پورا کرتے ہیں نہ کہ قرآ ن وحدیث کے حکم کو چنانچہ چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
غیر مقلدین کے مناظر پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری صاحب ہراہل حدیث کے نام خط میں لکھتے ہیں :
􁗐 آج کا اہل حدیث اہل حدیث نہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے یا ایہاالذین امَنوا اَمنِو)نساء (یعنی اے ایمان کادعوی کرنے والو اپنے ایمان کواپنے دعوے کے مطابق درست کرو۔ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم پرصحیح طریقے سے ایمان لاؤ۔ جیسا کہ ایمان لانے کاحق ہے اے رسمی اور نام کے اہلحدیثو! صحیح معنوں میں اہل حدیث بنو۔ حدیث کے مطابق اپنے عمل اور کردار کودرست کرو۔ اپنی پوری زندگی میں اہلحدیث کے نا م کو نافذ کرو یہ نہ ہوکہ کوئی عمل حدیث کے مطابق کرواور کوئی خلاف۔
کیا کوئی اپنے مقدمات انگریز کی عدالت میں لے جا کر اہلحدیث بن سکتا ہے؟ اہل حدیث حضرات جب قرآن وسنت کادعوی کرتے ہیں تو اپنے مقدمات انگریز کی عدالت میں کیوں لے جاتے ہیں ؟
حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں:
اب جو اہلحدیث اپنے مقدمات کوانگریزی عدالتوں میں لے جاتا ہے وہ کیسے اہل حدیث رہ سکتا ہے ؟وہ اہل حدیث اہلحدیث نہیں جو کفر کی عدالتوں کارخ کرے اور وہ جماعت اہل حدیث کی جماعت نہیں جو قاضی مقرر کرکے اہل حدیث کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کاانتظام نہ کرے اہل حدیثوں نے بہت سی جماعتیں بنائیں اور وہ اپنے مفاد اور اقتدار کی خاطر خوب گتھم گتھا ہوئیں لیکن کسی نے قرآ ن کے اس حکم کوپورا نہیں کیا جیسے وہ اہل حدیث مجرم ہیں جنہوں نے اپنے اپنے کے تحت جماعتیں تو بنائیں لیکن ان جماعتوں میں قرآن وحدیث کانفاذ نہیں کیا۔
رسائل بہاول پوری ص 585
اہل حدیث قرآن وحدیث پر جمع نہیں ہوتے:
گذشتہ عبارت سے ثابت ہوچکا کہ غیر مقلدین اپنے مسائل انگریزوں کی عدالت میں لے جاتے ہیں کیا انگریز کی عدالت میں مقدمات لے جانے والا اپنے آپ کواہل حدیث کہہ سکتا ہے ؟ اس بارے میں غیر مقلدین کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
حافظ عبداللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں:
اہل حدیثو!آخر تم قرآن وحدیث پرجمع کیوں نہیں ہوتے؟ اہل حدیثو !تم قرآن وحدیث کواپنا حکم بناؤ قرآن وحدیث کی عدالتیں بناؤ ان میں اپنے مقدمات کے فیصلے کرواؤ تاکہ تم کم از کم مسلمان تو رہ جاؤ۔ اہل حدیثو!اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤقرآن وحدیث کی طرف رخ کرو پیٹھ نہ کرو قرآن وحدیث پر متحد ہوکر ان کو اپنا حکم بناؤ۔
رسائل بہاولپوری ص 006،601
اہل حدیث قرآن وحدیث سے مخلص نہیں :
اہل حدیث اگرچہ قرآن وحدیث کا دعوی کرتے ہیں کیاوہ اپنے اس دعوی میں مخلص ہیں ؟ اس بارے میں غیر مقلدین کے عالم کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
حافظ عبداللہ بہاولپوری صاحب لکھتے ہیں:
یہی حال اہل حدیث کاہے دعوی اہل حدیث کا کرتے ہیں نام قرآن وحدیث کالیتے ہیں لیکن سیاست جمہوری لڑاتے ہیں اور آپس میں وہ رسہ کشی کرتے ہیں کہ اہل حدیث تباہ ہوتے جارہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھی سیاسی پارٹیوں کی طرح اپنے اقتدار کے پیچھے لگے ہوئے ہیں قرآن وحدیث سے بھی مخلص نہیں پہلے اہل حدیث کاایک کامل پلیٹ فارم قرآن وحدیث تھا اب ان کے کئی سیاسی پلیٹ فارم ہیں کوئی کچھ کوئی کچھ۔
آج کل اہل حدیث سیا سی زیادہ ہیں دینی کم ا ن کے جنازے سیاسی ان کی افطاریاں سیاسی ان کے خطبے سیاسی ان کے جمعے سیاسی ان کے جلوس سیاسی غر ض یہ کہ آج جمہوری اہل حدیثوں کامذہب سیاست میں گم ہوکر رہ گیا۔

 

رسائل بہاول پوری ص 599
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s