خبردار ڈاٹ کام (ایک فیس بک کے گروپ) کی جانب سےچند سوالات کی جھلک اور میرے جوابات

خبردار ڈاٹ کام (ایک فیس بک کے گروپ)  کی جانب سےچند سوالات کی جھلک  اور میرے جوابات، جس پر نام نہاد محققین نے
خاموشی اختیار کر لی اور کوئی جواب اب تک نہ آ سکا۔ (واضح رہے یہ تو وہ سوالات ہیں
جو انہوں نے پوچھے۔ ہم نے کیا پوچھا وہ آگے عرض کریں گے)
سوال: کیا چار مسالک (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) مل کر
اسلام بناتے ہیں یا ھر مسلک اپنی جگہ مکمل اسلام ہے؟ اگر ان چاروں کا مجموعہ اسلام
ہے تو پھر ان میں اتنا اختلاف کیوں ہے؟
اور اگر ھر مسلک مکمل اسلام ہے تو پھر چار اسلام ہوئے؟
جواب: دو باتیں ممکن
ہیں۔

یا تو آپ سوال جان بوجھ کر غلط کر رہے ہیں، یا پھر آپ کو مکمل علم ہی نہیں۔

چاروں آئمہ کی فقہ کی صورت میں اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف سنتوں کی
مختلف صورتوں کو مختلف علاقوں میں جاری فرمایا ہے۔

فروعی مسائل میں چاروں اماموں میں اختلاف پایا جاتا ہے جو صحابہ تک میں پایا جاتا
تھا۔

مگر عقیدہ میں کسی کا اختلاف نہیں۔ مثلاً پانچ نمازیں سب کے نزدیک پانچ ہیں۔ کلمہ
سب کے نزدیک ایک ہی ہے۔، تراویح میں کوئی اختلاف نہٰیں۔ یعنی چاروں امام بیس رکعت
تراویح کے قائلین ہیں۔

سب کے فتوے تین طلاق ایک وقت میں دینے پر تین ہی ہوتی ہیں پر ہیں۔

یعنی عقیدے میں کسی میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ فروعی اختلافات جس سے نہ تو کوئی
کافر ہوتا ہے، نا اہلسنت سے خارج۔ یعنی رفع یدین کا مسئلہ، قرات خلف الامام کا
مسئلہ علی ہذاالقیاس۔ اب بتائیں کیا تردد ہے؟

رفع یدین کا اور قرات خلف الامام کا مسئلہ اور ایسے
دیگر مسائل وہ ہیں جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نہ کسی زمانے میں عمل
فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع والی رفع یدین فرمائی ہے۔ چاہے ایک ہی
بار فرمائی ہو۔ اس سے کسی اہلسنت مسلمان کو اختلاف نہیں۔

اور ترک رفع یدین بھی ثابت ہے۔ اہلسنت والجماعت (حنفی مالکی شافعی حنبلی) میں اس
مسئلے کی ہر صورت پائی جاتی ہے۔ یعنی حضور ص کی ہر سنت پر اہلسنت والجماعت عمل
پیرا ہے۔ الحمد للہ۔

اسی تناظر میں اہلسنت والجماعت حنفی، شافعی مالکی اور
حنبلی مکمل اسلام پر عمل پیرا ہیں۔ اور الحمد للہ حضور ﷺ  کی ہر ہر سنت کو اپنائے ہوئے ہیں۔

یہ تو بات ہوئی چار مذاہب کی۔ اب سنئے:

صحابہ کرام کے دور میں ہر شہر میں ایک صحابی کی تقلید ہوتی اور اسی صحابی سے فتوے
لئے جاتے۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ مکہ میں ابن عباس رض، مدینہ میں زید بن
ثابت، کوفہ میں عبد اللہ بن مسعود، یمن میں حضرت معاذ بن جبل اور بصرہ میں حضرت
انس کی تقلید ہوتی تھی اور انہی کے فتووں اور قیاسِ شرعیہ پر عمل ہوتا تھا۔ (رضوان
اللہ تعالی علیہم اجمعین)

مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ اور دیگر حدیث کی کتب میں ہزاروں حدیثیں ایسی
ہیں جو حضور  ﷺ  کا فرمان نہیں بلکہ سائل کا سوال اور مفتی
صحابہ کے فتوے ہیں۔ جو حضورﷺ  سے ثابت
نہیں۔ اور سائل نے اس مسئلے پر کوئی دلیل بھی نہیں مانگی۔ حالانکہ سائل بھی صحابی
یا تابعی تھے۔ عربی پر عبور بھی تھا، حدیث کو آج کے لوگوں سے بہت زیادہ
سمجھتے تھے مگر پھر بھی دلیل دلیل کی رٹ نہیں لگاتے تھے۔ یہی تقلید شخصی ہے۔

پھر ہر علاقے کا اپنا مذہب قرار پا گیا۔ ہر جگہ ایک شخص کی تقلید چل رہی تھی کہ
آخر کار آئمہ کا دور آیا انہوں نے ان سارے فتووں سے اور اپنے تقوی کی بنیاد پر ان
فقہوں کو جو صحابہ کے دور میں رائج تھیں ان کو جمع فرمایا۔ ان کو لکھ کر مدون صورت
میں جاری کر دیا۔

ایک غیر مقلد کے غیر مقلدیت کے بارے
میں خیالات اور میرے جوابات
غیر مقلد وہ ہوتا ہے جو تمام آئمہ کرام کی
رائے کو پڑھے اور جو قرآن و حدیث کے قریب تر ہو اسے تسلیم کرلے ، غیر مقلد تحقیق
کرنے والے کو کہتے ہیں جو کسی کے ساتھ بندھا ہوا نہ ہو کیونکہ تقلید کا مطلب ہی
بندھنا ہے مق۔۔
 
جواب:  سبحان
اللہ۔ غیر مقلد تحقیق کرنے والے کو کہتے ہیں۔

جی جی وہ تو ہم نے دیکھ ہی لیا کہ یقیناً غیر مقلد کی تحقیق تو تابعین اور خیر
القرون سے بھی افضل ہے۔  بلکہ چند معاملات میں تو غیر مقلدین تحقیق کے
معاملے میں حضرت عمر اور حضرت عثمان سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں،

اور اگر تقلید کا مطلب بندھنا ہے تو ہمیں بندھنا بہت پسند ہے۔ کیوں کہ جو آزاد
ہوتے ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں۔

ایک امام ہوتا ہے ایک مقتدی۔ جو تیسرا ہوتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی

ایک بادشاہ ہوتا ہے اور ایک رعایا۔ جو تیسرا ہوتا ہے اسے باغی کہتے ہیں۔

ایک مجتہد ہوتا ہے اور ایک مقلد، تیسرا جو ہوتا جس میں نہ اجتہاد کی صلاحیت ہو نہ
تقلید کی رضا وہ لا مذہب ہوتا ہے۔ 

 

تقلید نہ کرنے کے فائدے یہ ہیں کہ آُپ سُنت
سے انحراف نہیں کرتے تقلید نے سُنت سے دوری پیدا کی ہے ورنہ واضع احادیث ہونے کے
باوجود مقلد حضرات تقلید کے چکر میں جس کا حکم ہے ترک کردیتے ہیں ۔۔۔

جواب:  مقلد کبھی بھی واضح حکم کو نہیں چھوڑتا۔ اس بات
کے تمام مقلدین اور اکابرین قائل ہیں کہ ایسا مقلد جو واضح حکم کے سامنے اپنے امام
کا قول رکھے اور اسے مانے تو وہ جاہل اور فاسق ہے۔ ایسی تقلید کا کوئی صاحب عقل اس
زمین پر قائل نہیں۔ یہ محض آپ کا جھوٹا الزام ہے۔ آپ کے مطالعے میں ابھی کسر ہے۔

ہاں یہ بات اور ہے کہ دو مختلف صحیح احادیث ہوں تو اس
میں سے مقلد اسے مانے گا جو اس کے امام کے نزدیک قوی ہے۔ مثلاً اگر ہمارا امام ترک
رفع یدین کو درست جانتا ہے تو ہم ترک رفع یدین کی حدیث پر عمل کریں گے۔ رفع یدین
کی حدیث پر نہیں۔  واضح رہے کہ  اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم رفع یدین  کو ترک کرکے سنت کے یا حدٰیث کے منکر ہو
گئے۔  کیوں کہ اس لحاظ سے  جو رفع یدین کرنے کا قائل ہے وہ  بھی
ترکِ رفع یدین کی سنت کا تارک ہے۔
 

مقلد مانتا تو سب اماموں کو ہے مگر عمل کسی
ایک کی بات ہی پر کرتا ہے ۔۔

جواب: یہ بات درست ہے کہ مقلد
مانتا سب اماموں کو ہے مگر عمل اپنے امام کی بات پر کرتا ہے۔ جیسا کہ شریعت میں
مسلمان مانتا سب نبیوں کو ہے۔ مگر عمل اپنے نبی کی شریعت پر کرتا ہے۔

جیسا کہ پہلے کے نبیوں کی شریعت منسوخ ہے۔ اور شریعت
محمدی ناسخ، اسی طرح تینوں آئمہ کی فقہ ہمارے یہاں مرجوح ہے اور فقہ حنفی راجح۔
 ہر امام کی فقہ اس کے
علاقے میں راجح ہے۔ اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ برحق ہے۔
 یعنی
اگر ہم ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں سارے حنبلی ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم حنبلی طریقے
سے اپنے مسئلوں میں عمل پیرا ہوں۔ مثلاً
چار گاؤں ہیں اور ہر ایک کا ایک کنواں ہیں۔ چاروں کے پانی پاک  ہیں، چاروں سے وضو جائز ہے۔ اب مجھ پر یہ ضروری
نہیں کہ چاروں سے وضو جائز ہونے کی وجہ سے میں کلی ایک کنویں سے کروں منہ دوسرے
گاؤں والے کنویں پر جا کر کروں، ہاتھ تیسرے سے دھوؤں اور پیر چوتھے سے۔ ہاں اگر
میں اس گاؤں میں جاتا ہوں تو لازم ہے کہ اسی گاؤں کے کنویں سے مکمل وضو کرونگا
کیوں کہ وہاں اب میرا  کنواں  راجح نہیں۔

تو معلوم ہوا کہ بات صرف رستے کی ہے۔ منزل چاروں کی ایک
ہے ، کرنا ہر کنویں سے وضو ہے، مسئلہ ہر امام کا برحق ہے الحمد للہ۔

یعنی ۔۔ مقلد ہونا بھی انہیں دراصل ہضم نہیں
ہوتا ۔۔ مثلا اگر کوئی حنفی ہے تو مقلد ہے اور جنتی بھی ہے ۔۔ اگر کوئی شافعی ہے
مقلد ہے تو وہ گمراہ ہے
  ، مالکی اور حنبلی بھی یعنی خادم احناف ہونا ضرور ہے خادمِ شافعی
ہونا انہیں قبول نہیں

جواب:    آپ کا قول کہ باقی آئمہ کے مقلدین گمراہ ہیں
تو ایسا کوئی حنفی نہیں کہتا۔
آخری بات یہ کہ خادم احناف ہونا کیوں؟ کیوں کہ ہم حنفی
ہیں۔ اور دنیا جانتی ہے کہ احناف سے بغض رکھنے والے ہر دور میں ہوئے ہیں۔ ہر ایک
نے احناف پر اعتراض کیا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ نے جتنی مقبولیت احناف کو
بخشی، جتنی دینی خدمات احناف سے لی ہیں پوری دنیا میں ایسا کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔
تو چاند سے حسد کرنا تو لوگوں کا شیوہ ہی ہے۔ اس لئے ہم احناف کے خادم بننے پر فخر
کرتے ہیں۔
 
اگر ہم حنبلی، مالکی یا  شافعی  ہوتے
تو ضرور خادمِ حنبلی، شافعی یا
مالکی بنتے۔ 
ایک خاتون کے  ترددات
کون کہتا ہے آ پ سے کہ فرقے میں جا گھسیں
۔۔۔۔۔۔۔۔آ پ کے پاس شعور ، عقل ،کتاب ، قرا ن سب کچھ ہے ، آ پ میں اتنا ذوق و شوق
ہے تو آ پ خود تحقیق کیو ن نہیں کر تے کیو ں مفت کی کھا نا چا ہتے ہیں ؟آ پ دنیا
وی معا ملا ت کے لئے دلیل بھی ڈھو نڈ لا تے ہیں ۔ تحقیق بھی کر لیتے ہیں جہا ں
مذہب کی بات آ ئی آ پ اپنے اما مو ں کو پکڑ کر لے آ تے ہیں
 آپ ایک حدیث
نکا لیں نما ز کی اور ہر فرقے کی کتاب سا منے رکھ کر تحقیق کر لیں ۔
جواب:  حیرت
کی بات ہے۔ جب آپ یہ سمجھتی ہیں کہ ہم دنیاوی معاملات میں دلیل ڈھونڈ سکتے ہیں تو
یقین رکھئے کہ ہم دین میں بھی تحقیق اور دلیل ڈھونڈنے کے اہل ہیں اور یہ کام آپ سے
زیادہ خوبی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ہم ایسا کر سکتے ہیں تو
کرتے کیوں نہیں؟

اس کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں کہ دین میں محض نقل
چلتی ہے۔ عقل نہیں چلتی۔

اب آپ یا تو یہ اعتراض رکھ دیجئے کہ دین میں نقل نہیں
صرف عقل ہی چلتی ہے تو اس پر بحث ممکن ہے۔

 

جہاں تک بریلویوں کا مسئلہ ہے تو ہمارا اس معاملے میں
یہ فیصلہ ہے کہ بریلوی بھی کسی کے مقلد نہیں۔ وہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی تقلید
فرما لیتے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ اہلحدیث کے نام سے بھی کرتے ہیں۔
 

اب ایک اور مزے کی بات دیکھیں۔ آپ بذات خود بار بار یہ
بات فرماتے ہیں کہ آپ تحقیق کرتے ہیں۔ مگر میرا سوال یہ ہے آپ تحقیق کیسے کرتے
ہیں؟

کیا آپ کے پاس صحاح ستہ، صحیحان و سنن، مسانید و
مصابیح، تفاسیر و فتاوی، فقہ و   اسمائے رجال اور تواریخ کی تمام کتابیں موجود
ہیں؟

کیا آپ عربی و فارسی، علم منطق، علم الصرف و نحو اور
دیگر علوم پر مکمل عبور رکھتے ہیں؟

چلیں موجود ہونا تو دور، کیا ابھی سے پہلے آپ ان سب
ناموں سے بھی واقف تھیں کہ دنیا میں ایسی کوئی چیز بھی ہوتی ہے؟ (یہ فیصلہ خود
اپنی غیرت ایمانی اور دل میں ایمان کو رکھ کر ہاں اور نا میں جواب خود ہی کو دیجئے
گا)

 

اگر جواب ہاں میں ہے تو آپ کی کتنی تصانیف ہیں؟

میرے نماز کے متعلق سوالات کے بارے میں آپ کی اپنی (بلا
شرکت غیرے) کیا تحقیق ہے؟ اور ان کے جوابات کیا ہیں؟

 

یا  اگر جواب
‘نا’ میں ہے (جس کا آپ یقیناً اظہار نہیں فرمائیں گی۔ کیوں کہ سچ بہت کڑوا ہوتا
ہے) تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ پکی مقلد ہیں۔ فرقہ نام نہاد اہلحدیث
کے علماء کی تقلید میں گرفتار ہیں، اور انکے حکم کو نعوذ باللہ من ذالک نبی ص کا
حکم مانتی ہیں اور عمل بھی کرتی ہیں۔ کیوں کہ یہ تو ثابت میں کر ہی چکا ہوں کہ اس
فرقہ یعنی اہل حدیث حضرات کی صرف نماز بھی احادیث سے ثابت نہیں، چہ جائے کہ اپنا
ہر ہر مسئلہ حدیث سے ثابت فرما سکیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خود کو محقق کہنا آپ کے لئے ذاتی
طور پر فخر ہو تو ہو، قیامت کے دن جب حساب و کتاب کا مرحلہ آیا تو اعمال میں دلائل
کی کمی بیشی کا سارا ذمہ آپ کے سر آئے گا کیوں کہ محقق ہونے کا دعوی آپ کا اپنا
تھا۔ اللہ نے تو کہا تھا کہ
فاسئلو
اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون
۔

 

ہمیں فخر ہے کہ ہم کسی گمراہ فرقے کے کسی گمراہ چودھوی
صدی کے امام کی پیروی نہیں کرتے۔ بلکہ اسکی پیروی کرتے ہیں جس کے امام ہونے پر بھی
خیر القرون کے تمام آئمہ متفق تھے۔ جو اجماع امت سے مجتھد تھا، جس کے صحیح فیصلے
پر دو اجر اور بھول چوک ہو جانے پر بھی ایک اجر کا وعدہ ہے۔

 

غیرت ایمانی ہو تو فیصلہ کریں اور حدیث (وخیر امتی قرنی
ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم۔ یعنی میں بہترین میرے بعد کا دور بہتر اور اسکے
بعد کا دور اچھا۔ اور آنے والا ہر دور بد سے بدترین ہوگا) کو بھی ذہن میں رکھیں کہ
آج کی تحقیق بہتر ہے یا وہ تحقیق جس پر بارہ سو سال تک کسی نے اعتراض ہی نہیں کیا۔
آج کی صدی میں چند لوگ اعتراضات شروع کریں تو حق پر ہونگے ؟ یا وہ حق پر ہوگا جو
خیر القرون کے دور سے چلے آرہے ہیں؟ جن کو ہندوستان میں اسلامی لٹریچر اور قران و
حدیث کو لانے کا شرف حاصل ہوا۔
 

قرآ ن نے مسلمان کا نام دیا ہے اس میں کہیں
نہیں لکھا کہ اپنے آ پ کو فرقے سے ظا ہر کرو ۔ غیر مسلم کے لئے مسلما ن ، مسلما ن
ہی ہو تا ہے وہ کبھی نہیں پو چھتا کہ آ پ سنی ہیں ، دیو بندی ہیں ، حنفی ،شا فعی
یا ما لکی
جواب:  تو ثابت ہوا کہ جو جو خود کو مسلمان کہے وہ
مسلمان ہے۔ چاہے احمدی ہو، شیعہ ہو، سنی ہو، دیوبندی  ، وہابی، بریلوی جو بھی ہو۔ بہت خوب موقف ہے
محترمہ کا۔
ایک اور  صاحب میدان میں
ہم
صرف مسلمان ہیں سب سے پہلے کسی تعصب اور تقلید کے قران کو تفسیر کے ساتھ
پڑھا جائے۔ اس کی روشنی میں پورے خلوص کے ساتھ صرف اللی کو جوابدہ  ہونے کے خوف
کے ساتھ کی بھی بات پر عمل کیا جائے۔ بس ہمیں سب سے پہلے تقلید اور تعصب کی
عینک اتارنی ہو گی۔ پھر اسلام بہت آسان لگے گا۔
جواب:  بھائی یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کہ تعصب کی عینک
اتار کے دیکھو تو بہت کچھ نظر آئے گا۔

مگر سلف صالحین سے بغض بھی اللہ کی ایک لعنت ہی ہوتی ہے۔ یعنی خیر القرون کے ہدایت
یافتہ آئمہ اور فقہاء کے سامنے چودھوی صدی کے معراج ربانی اور توصیف الرحمن کی
تقلید میں اندھا ہوجانا۔ یہ کیا کوئی کم لعنت ہے؟
دوسری بات آپ نے کہی کہ بنا تقلید کے قران پڑھو۔ تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں
کہ آج تک کوئی ایک بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جو بنا تقلید کے قران پڑھے اور گمراہ نہ
ہو جائے۔

بنا تقلید کے حدیث پڑھے اور گمراہ نہ ہو جائے۔

کوئی غیر مقلد، اہلحدیث یا محمدی جسے یہ دعوی ہو کہ وہ کسی کی تقلید نہیں کرتا وہ
سراسر جھوٹ بولتا ہے۔ اور یہ ہمارا دعوی ہے کہ تقلید ضروری بلکہ واجب ہے۔ بغیر
تقلید کے ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا دین میں۔

اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ تقلید کس کی کرنی ہے؟

معراج ربانی اور توصیف الرحمن ایسے  جہلاء
اور کاذبین کی یا خیر القرون کے صلحاء کی۔ ؟

ہر ذی شعور انسان خود ہی فیصلہ کر لے۔

میں نے یہ نہیں کہا کہ قران کو اپنی سمجھ سے پڑھا
جائے، یہ ممکن ہی نہیں ہے اس معاملے میں جتنی تفاسیر پڑھی جائیں کم ہیں۔ اس وقت کی
معروضی حالت جانے بغیر قران کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ میں نے خود مولانا مودودی
کی تفسیر سے استفادہ کیا ہے۔  اس میں تمام
مسالک کے بہترین  آئمہ کا  نظریہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس کا
مطلب یہ نہیں کہ میں ان کی ہر بات سے متفق ہوں۔ بعض جگہ مجھے دوسرے بزرگوں کی رائے
زیادہ مناسب لگی۔ تو یہ تو اپنی اپنی جستجو کی بات ہے۔
جواب:  (غور کریں کہ
پہلے ان صاحب کا مطالبہ تھا کہ ہم بنا تعصب اور بنا تقلید کے قران پڑھیں۔
اب بات کو یکثر پلٹ دیا کہ قران کو اپنی سمجھ سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ خیر ہم مثبت
سوچ کی وجہ سے اعتراض نہیں کرتے )
 تو
ثابت ہوا کہ آپ کہیں مولانا مودودی کی تقلید میں قران پڑھتے ہیں، اور کہیں دوسرے
اماموں کی تقلید میں۔
آپ کے دماغ میں تقلید کیوں رچ بس  گئی ہے؟ میں نے کب کہا کہ میں نے کسی کی تقلید
میں قران پڑھا ہے؟ لیکن ہاں میں نے مختلف صاحب علم لوگوں کو پڑھنے کے بعد اپنی
رائے ضرور قائم کی ہے۔  عقل و شعور بھی تو
کوئی چیز ہے یا نہیں؟ انسان میں پرکھنے کی صلاحیت تو دی ہے اللہ پاک نے۔ اندھی
تقلید مناسب نہیں ہے بس۔
جواب:  آپ کبھی کہتے ہیں کہ قران کو اپنی سمجھ سے بنا
کسی کی تقلید کے پڑھو کبھی کہتے ہیں کہ قران کو خود سے  پڑھنا
ممکن نہیں۔ آپ خود ہی تفسیر مودودی کو پڑھنے کا دعوے فرماتے ہیں پھر کہتے ہیں
کہ ہم تقلید نہیں کرتے۔
 
آپ ذرا قران کے متعلق اپنی تحقیقات کو جمع فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی مفسر نے نہ
لکھی نہ کہی۔ ایک نئی پوسٹ بنا کر پوسٹ کریں۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

اور اندھی تقلید ہم نہیں کرتے الحمد للہ۔ اندھی تقلید وہ کرتے ہیں جن کا امام جاہل
اور اندھا ہو۔

امام ابو حنیفہ کی فہم و فراصت پر تمام امت کے فقہاء قائل ہیں  چند
اندھے ان کی فہم و فراصت اور بصیرت نہیں سمجھ سکتے

میں نے کہا کہ میں نے قران کی وہ تفاسیر
پڑھنے کی کوشش کی ہے جن میں تمام مسالک کے اماموں کی رائے موجود ہے اسی حوالے سے
مولانا مودودی کا حوالہ دیا  تھا۔ پھر ان
میں سے میں نے اپنی رائے قائم کرنے کی کوشش کی ہے اپنی سمجھ کے مطابق۔ اس سے زیادہ
تحقیق کرنے پر میں قادر نہیں ہوں۔
جواب: چلیں تو آپ چند مقامات
کی وضاحت کردیں جن میں آئمہ کا آپس میں اور مولانا مودودی کا دوسروں سے اختلاف ہو
۔ اور اس کے ضمن آپ نے اپنی عقل مبارک سے کیا فیصلہ فرمایا۔ جو بھی ہو ایک پوسٹ
بنا کر لکھ دیں۔ (جواب اب تک تو نہیں آیا۔ دیکھیں کب آتا ہے)
پھر ایک صاحب اس گروپ کے امام مناظر  میدان میں کود پڑے

1:مذھب & مسلک کی ذرا سی
تعریف لکھ دیں________؟

2:آپ اجماع امت کو بہت ھی قوئ دلیل مانتے ھیں
تو نماز تراویح 20 رکعات کہاں سے ثابت ھے سنت مؤکدہ_________؟؟؟

3:دیو بندی & بریلویت دونوں
ھی سیم عقائد پر ھیں جیسے کہ منصور حلاج.موسیٰ سہاگہ.جنید بغدادی
& خانقاہی نظام
کیا چودہ سو سال سے امت کا اس پر اجماع ھے تو ثابت کرنا پڑے
گا__________________؟؟؟؟؟

4:اس حقیقت پر کس کا اجماع ھے کہ دیو بند اپنے
شیخ کو حرف آخر مانتا ھے یعنی بیٹھا کر پوجا کرتا ھے
& بریلویت دو قدم
آگے اپنے شیخ کو مزار میں لیٹا کر پوجا کرتا ھے_________؟؟؟؟؟؟؟

5:میں نہ اھل ھدیث ھوں نہ غامدی نہ
پرویزی،،،الحمدللہ میں مسلمان ھوں اور مسلمان تفرقہ باز نہیں ھوتا،دیو بند کا
اجماع کیا کہتا ھے ایسے لوگوں کو؟

جواب: شروع کے چار سوالات کا جواب تو میں اسی صورت میں دونگا کہ
آپ پہلے پانچوا سوال حل فرمائیں
مسلمان؟ کیسے مسلمان ہیں؟
کچھ تو قبول کرنا پڑے گا۔ ورنہ بات آگے نہیں بڑھ سکے
گی۔ کیوں کہ اکیلا مسلمان مسلمان نہیں ہے۔ اگر آپ کہیں کہ آپ صرف مسلمان ہیں تو
میں پوچھوں گا کہ آپ اپنے سے بڑے کن لوگوں کو مانتے ہیں؟

یعنی آپ کے اکابرین اور آپ کی قیادت کون ہے؟ کیا آپ
لوگوں کی کوئی مسجد یا مدرسہ قائم ہے؟  اگر
نہیں تو آپ با جماعت نماز کہاں ادا کرتے ہیں؟ یا آپ اپنی ہی تحقیق، قران کی خود
ساختہ تفسیر، حدیث کی خود ساختہ تشریح ہی کو حجت مانتے ہیں؟

اگر آپ اس بات کا انکار کریں کے آپ محض مسلمان ہیں اور
کسی فرقے سے آپ کا تعلق نہیں  تو ہم آپ کو
کسی زمرے میں اہلسنت نہیں سمجھتے آپ گمراہ ہیں۔ کیونکہ اکیلی کڑی کی کوئی حیثیت
نہیں۔ جب تک وہ زنجیر سے نہ جڑی ہے۔

تو شاباش بتائیں آپ کون ہیں تاکہ بات آگے بڑھ سکے اور
آپ کے سوالات کا جواب آپ کے مسلک کے مطابق دیا جاسکے۔

میں مسلمان ھوں اور الله کا فرمان پڑھو
القران سورة حٰمٓ السجدة / فُصّلَت

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا
مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ
الْمُسْلِمِينَ﴿041:033﴾

اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی
طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ھوں

جواب:
 الحمدللہ ہم سب
مسلمان ہیں۔

بلکہ اس بات کا دعوی تو شیعہ حضرات اور احمدی حضرات تک
کو ہے۔  یعنی لفظ  ”مسلمان“  پر تمام فرقے با فخر و ناز متفق ہیں کہ وہ سب
مسلمان ہیں۔
 

مسلمان کہلانا اس کے لئے شرط نہیں کہ جو ناجی فرقہ ہے  وہ مسلمان ہی کہلائے گا۔ 
 اب آپ کا سوال بنتا ھے کہ تہتر فرقوں  میں سے صرف ایک فرقہ ھو گا جنتی
ٹھیک______________؟؟؟ تو بسمل صاحب اس ھدیث میں ایسا کچھ نہیں ھے کہ وہ جنتی فرقہ
خود کو فرقہ سے فخر کرے گا یا خود کو اھل سنت کہے گا______________وہ بس مسلمان
کہے گا اور کہلائے گا ۔
جواب: میری بات اتنی سی ہے کہ
تہتر فرقوں میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا۔ مگر جو ناجی ہوگا، حقیقت میں وہ بھی
ایک فرقہ ہی تو ہوگا۔
تو وہ خود کو فرقہ سے پہچانا جائے گا یا
مسلمان ھونے سے؟؟
جواب:  فرقے
سے اور اپنے مسلک و مذہب سے پہچانا جائے گا۔ لفظ ”مسلمان“ سے نہیں۔ کیوں کہ یہ
دعوے تو آپ اور مجھ سے زیادہ احمدیوں کا ہے۔
تو پھر اپنی اس بات کو ابھی ثابت کیجئے
جواب: میں نے کہا نا کہ ناجی
فرقہ اپنے مذہب سے جانا جائے گا۔ لفظ مسلمان کے مدعی تو سب ہی ہیں۔

اگر ایک اکیلا آدمی خود قران پکڑ کر بیٹھ جائے اور حدیث
پر خود اپنی فہم کو حجت مانتے ہوئے عمل کرے تو وہ یقیناً گمراہ ہے۔

یہاں میں نے قران کی آیت پیش کی ھے اب آپ اس
کو حجت نہیں مانتے کیا؟
جواب:  مانتا
ہوں اللہ کا کرم ہے۔

مگر اس میں آپ کا مدعا بیان نہیں ہوتا۔ یہ بات قران میں کہیں نہیں ہے کہ خود کو
مسلمان کہنے والا ہی ناجی ہے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں مذہب کی تصریح ضرور ہے کہ
اس مذہب کو رکھنے والا ناجی ہے۔ نام اس کا کچھ بھی ہو    اس سے
فرق نہیں پڑتا۔ اب اگر آپ یہ کہیں کہ آپ کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتے تو آپ کی
انٹری تو جنت میں ہو ہی نہیں سکتی۔ کیوں کہ جنت میں انٹری ایک فرقے ہی کی ہوگی جو
تہتر میں سے کوئی ایک ہوگا۔ اب اگر آپ اکیلے آدمی بنا کسی فرقے کے مسلمان ہے تو
میں یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ سورہ نساء کی اس آیت  ”ویتبع
غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم

کے مصداق ہیں اور ناجی نہیں بلکہ گمراہ ہیں۔

آپ خود کو کیا کہتے ھیں دیو بند اور قران
کہتا ھے کہ اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ھوں ؟
جواب: تو بھئی ہم بھی مسلمانوں
میں سے ہیں الحمد للہ۔ اور جیسا میں نے عرض کیا کہ یہی دعوی شیعہ اور احمدی بھی
کرتے ہیں۔ بلکہ احمدی تو کچھ زیادہ ہی مسلمان ہونے پر نازاں ہیں۔ انہیں آپ قران کا
عامل مانیں تو مانیں میں نہیں مانتا
الله اکبر_______________ او بھائی میں ختم
نبوت پر یقین رکھتا ھوں
جواب: تو پھر شیعان حضرات کو ناجی
مانتے ہونگے۔ اسی قران کی آیت کو ان پر
دلیل رکھ کر۔ کیونکہ وہ بھی کہتے ہیں کہ ”ہم مسلمانوں میں سے ہیں“۔
 اففففففففففففففففففففف 
جواب: میں تبھی آپ سے کہہ رہا تھا کہ قیادت مذہب کی
نشاندہی کرتی ہے۔ اکیلے آدمی کا کوئی مذہب نہیں۔ وہ گمراہ ہے۔
 
(یہ بحث بھی ادھوری ہے۔ کیونکہ یہ صاحب اپنے اکیلے
مسلمان ہو کر ناجیوں میں شرکت کرنے کی دلیل لانے سے قاصر ہیں)
تو قارئین یہ چند جھلکیاں تھیں آپ کے سامنے جو آپ نے
دیکھی ہیں اور فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ
کس طرح خود کو صحیح العقیدہ مسلمان کہنے والے، تقلید کا رد کرنے والے بد
حواسی کا شکار ہیں۔ تقلید کرنے کے با وجود تقلید کو شرک کہتے ہیں۔ اندھی تقلید کے
باوجود خود کو محقق کہتے ہیں۔ کبھی اہلحدیث، کبھی محمدی اور کبھی صرف مسلمان ہونے
کا  وسوسہ دے کر کہتے ہیں کہ وہ کوئی تفرقہ
نہیں چاہتے۔ منہ سے تقیہ کرتے ہوئے منافقت سے حدیث اور قران کا نام لے کر اپنے
مذہب کی اپنے مسلک کی دھوکے بازی سے  تبلیغ
میں برسرِ پیکار ہیں۔
اس گروپ میں ہونے والے مباحث کا بقیہ حصہ بھی آپ کی
خدمت میں جلد پیش کیا جائے گا۔

 

انشا اللہ تعالی۔ 
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s