اعتراض:ایک امام ایک چیز کو جائز، حلال مباح اور صحیح کہتا ہے تو دوسرا ناجائز، حرام اور غلط قرار دیتا ہے

الکلام المفید فی اثبات التقلید
باب ہفتم
ممکن
ہے کسی کو یہ شبہ پیدا ہو کہ احادیث کےظاہری مفہوم کو ہی کیوں نہ لیا جائے تاکہ
کسی بھی امام کی فقہ اور تقلید کی ضرورت ہی پیش نہ ائے کہ فلاں امام نے اس کا یہ
معنی بیان کیا ہے اور فلاں نے یہ مطلب لیا ہے؟خصوصاََ جبکہ فہم معنیٰ میں حضرات
ائمہ کرام کے نظریات جدا جدا ہیں۔اور بسا اوقات ان میں تضاد بھی ہو جاتا ہے۔مثلاََ
ایک امام ایک چیز کو جائز، حلال مباح اور صحیح کہتا ہے تو دوسرا ناجائز، حرام اور
غلط قرار دیتا ہے ۔اندریں حالات کہ ہم کس کو مصیب اور کس کو مخطی رکھیں؟کسکی تقلید
کریں اور کس کی نہ کریں۔ جب یہ خرابی ہی تقلید اور حضرات ائمہ کرام پر اعتماد کی
وجہ سے ہوتی ہے تو اس سے کنارہ کشی ہی کیوں اختیار کر لی جائے۔ کہ ہینگ لگے نہ
پھٹکڑی۔
ایک
مقام ایسا بھی آیا ہے محبت میں سرور
ان
حسین ہاتھوں سے بھی دامن چھڑانا پڑا
الجواب:
سطحی
طور پہ تو یہ اعتراض بڑا خوشنما اور خوبصورت نظر آتا ہے اور ظاہر بین اس کو گلے کا
ہار بنانے پہ تیار ہو جاتا ہے۔مگر غوروفکر کے بعد اس کی اصلیت کھلتی ہے وہ یوں کہ
ہر آدمی ہر بات کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتا۔بسا اوقات ایک آدمی الفاظ اور پیش آمدہ
واقعات سے کچھ اخذ کرتا ہے اور ظاہری طور پہ وہ اسے ماننے پہ آمادہ نہیں ہوتا لیکن
غوروفکر اور تشریح کے بعد وہ مطمئن ہو جاتا ہے اور اسے تسلیم سے کوئی مخلص نہیں
ملتا۔
آنحضرت
ﷺ کے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بڑھ کر اور کون آپ ﷺ کا نبض شناس ہو سکتا
ہے؟ اور ان سے بڑھ کر حقیقت آشنا اور نکتہ رس اور کون ہو سکتا ہے؟ مگر صد حیرت اور
ہزار افسوس اس امر پر ہے کہ بعض ٖغیر مقلدین حضرات ، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ
عنھم کو بھی سنت سے ناواقف بتاتے ہیں۔
چنانچہ
ان کے مولانا محمد صادق خلیل نماز ترویح مولف علامہ الشیخ محمد ناصر الدین البانی
کا ترجمہ کرتے ہوئے اس کے مقدمہ  میں چیلنچ
کے عنوان کے تحت یہ بھی لکھتے ہیں کہ پس آنحضرت ﷺ کے قول و عمل کے ہوتے ہوئے حضرات
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل کو ترجیح دینا اور اس پر عمل پیرا ہونا صحیح نہیں
ممکن ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم
سنت نبویﷺ سے ناواقف رہے ہوں۔ ( مقدمہ نماز تراویح صفحہ 13، طبع نفیس
پرنٹنگ پریس فیصل آبار
)
اس
عبارت کا اول حصہ تو محل نزاع سے خارج ہے خط کشیدہ الفاظ قابل گرفت ہیں کیونکہ ایک
دو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معاملہ ہوتا تو بات جدا تھی کیونکہ ہر صحابی
ہر وقت آنحضرت ﷺ کی مجلس و خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے اور آپ ﷺ کی مجلس میں
دین کی باتیں ہر وقت ہوتی رہتی تھیں۔لیکن مجموعی طور پر تمام حضرات صحابہ کرام رضی
اللہ عنھم کو سنت نبویﷺ سے ناواقف قرار دینا بڑی جسارت کی بات ہے۔جب یہ ممکن ہے کہ
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  سنت نبوی
ﷺ سے ناواقف رہے ہوں تو چودھویں صدی کے مجتہدین کو سنت کہاں سے حاصل اور نصیب
ہوئی؟ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا
بیس تراویح پڑھنا تواتر سے ثابت ہے جس کا انکار بغیر کسی متعصب اور ضدی کے کوئی
نہیں کر سکتا اسلئے یہ دعوی کر کے اپنے ناخوائندہ حواریوں کو آٹھ تراویح کے سنت
ہونے کی لوری دی ہے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو سنت نبوی ﷺ سے ناواقف
گردانا ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں ایسا لکھنے والوں کے حق
میں اس کے سوا ہم کیا کہہ سکتے ہیں
ہماری
وضع داری ہے جو ہم خاموش ہیں ورنہ
یہ
رہزن ہے جنہیں ہم رہبر منزل سمجھتے ہیں
مثلاََ
واقعہ صلح حدیبیہ کو ہی لے لیجئے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کا حضرت ابو جندل بن سہیل رضی
اللہ کو  کفار کی طرف واپس کر دینا خود آپ
ﷺ کو بھی اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بھی کس قدر ناگوار تھا۔اور بعض
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ سبحان اللہ اس مسلمان
کو پھر کافروں کی طرف کیسے لوٹایا جا سکتا ہے؟(بخاری،ج1،ص380)۔اور ان کی واپسی
مسلمانوں کو ناپسند اور شاق گزری(فکرہ المومنوں ذالک وامتعو! بخاری،ج2،ص601)۔
اور
حضرت عمر رضی اللہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ فرمایا
کیوں نہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر یہ کمزور شرط جو مشرکین کی طرف
سے پیش کی جاتی ہے کیوں قبول کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اس
کی نافرمانی نہیں کر سکتا وہ میری مدد کرے گا۔(بخاری،ج1،ص380
)
ملاحظہ
کیجئے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو آنحضرت ﷺ کے سامنے مشرکین کی طرف سے
پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرنا اور ایک مسلمان کو جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے بڑی مشقت
اٹھا کر آپ کے پاس پہنچے تھے واپس کرنے کا عمل ابتداءََ سمجھ میں نہیں آسکا، بلکہ
ناگوار گزرا مگر باکمال حقیقت سامنے آ گئی۔ ایک طرف ان حضرات کی اس واقعہ کے متعلق
بے چینی ،ناگواری اور بے قراری ملاحظہ فرمائیں اور دوسری طرف اس واقعہ سے متعلق
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی معاملہ فہمی اور اطمینان قلبی دیکھیں کہ جب وہی
گفتگو جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ سے کی تھی وہی حضرت ابو بکر رضی اللہ
عنہ سے کی تو انہوں نے نہایت سکون سے فرمایا
:

اے شخص! بیشک آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں
اور آپ ﷺ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے ۔اللہ تعالی آپ ﷺکی مدد کرے گا سو آپ کی
رکاب کو پکڑے رکھ بخدا آپ ﷺ حق پہ ہیں” (بخاری،ج1،ص380
)
واقعہ
صرف ایک ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ آراء اور نظریات اسکے بارے میں مختلف ہیں۔یہی حال
حضرات مجتہدین کا ہے کہ وہ خداداد فہم و فراست کے مطابق الفاظ ِ واقعہ اور عمل کا
جائزہ لیتے ہیں ۔کوئی مصیب و ماجور ہوتا ہے اور کوئی مخطئ و معذور، جو بزبان حال
یہ کہتے ہیں کہ
مجھے
ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو
دیدی ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا
مصلحت
وقت کا تقاضا
:
شرعاََ
کسی وقت مصلحت بھی مسئلہ پہ اثر انداز ہوتی ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونا ہر ایک
کاکام نہیں ہے۔ صاحبِ فراست و بصیرت ہی اس مشکل کام کو طے کر سکتا ہے ۔ چند واقعات
ملاحظہ فرمائیں،
(1):
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا حجر و حطیم ( جو کہ دس فٹ کا
بغیر چھت کے کعبہ کا ہی حصہ ہے) بیت اللہ کا حصہ ہے؟
آپ
ﷺ نے فرمایا : ہاں! میں نے کہا کہ لوگوں نے اس کو بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں
کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری قوم کے پاس ( یعنی اہل مکہ) کے پاس جبکہ ابو وہب
بن عابد کعبۃ اللہ کا متولی تھا اور اس نے اعلان کیا تھا کہ کعبہ کی تعمیر میں
عورتوں کی ناجائز کمائی، سود کی رقم اور لوگوں سے ناجائز طریقہ سے لی ہوئی رقم
چندہ میں پیش نہ کرنا۔( ہامش بخاری،ج1،ص216
)
لہذا
حلال کی رقم اتنی جمع نہ ہو سکی تاکہ حجر و حطیم کو اندر داخل کر کے قواعدِ
ابراہیم علیہ سلام پر اس کی بنیاد رکھی جا سکتی اور اس مال کی وجہ سے یہ حادثہ پیش
آیا۔میں نے کہا کہ کعبۃ اللہ کادروازہ کیوں بلند کیا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ بھی
تیری قوم کی کارستانی ہے تاکہ جسکو چاہیں کعبہ میں داخل کریں اور جسکو چاہیں منع
کر دیں۔ اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی  اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل میری
کاروائی کا انکار کریں گے تو میں حجر کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور دروازہ پست
کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور دو دروازے بنا دیتا، ایک مشرقی سمت اور دوسرا
مغربی جہت میں۔( محصلہ بخاری،ج1،ص215، و مسلم، ج1، ص 429
)
چونکہ
آپ ﷺکے سامنے قوم کے بگڑنے اور اوہام میں مبتلا ہونے کا خدشہ اور خطرہ تھا اس لئے
اس مصلحت کے پیشِ نظر کعبۃ اللہ کو اساسِ ابراہیم علیہ السلام پہ تعمیر کرنے کا
ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصلحت بھی شرعاََ ،طلوب ہے۔
(2):
آنحضرت ﷺ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کے قتل کی اجازت طلب کی تو اسکے جواب میں آنحضرت ﷺ
نے ارشاد فرمایا،
یعنی
چھوڑ دے ۔ لوگوں میں کہیں یہ مشہور نہ ہو جائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے
ہیں” ( بخاری،ج2،ص728، مسلم، ج1، ص340
)
قارئین
کرام نے دیکھ لیاکہ منافقین وہی تو ہیں جنکے بارے میں قران کریم کے ظاہری الفاظ یہ
ہیں۔
يٰأَيُّهَا
النَّبِىُّ جٰهِدِ الكُفّارَ وَالمُنٰفِقينَ (سورة التوبة٧٣، پ 10
)
اے
نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں ۔
مگر
باوجود اس کے ہر منافق کو تو کیا قتل کیا جاتا ، بڑا موذہ منافق بھی جس نے بارہا
آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت اور ذات مقدسہ پہ رکیک حملے کیے اور حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا پہ اتہام بھی لگائے اور اس سلسلہ میں پیش پیش رہا۔ اسکو بھی اسلئے
چھوڑ دیا گیا کہ لوگوں میں یہ چرچا نہ ہو کہ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں۔

 

چونکہ
منافق ظاہری طور پہ کلمہ اور نماز پڑھتے تھے اسلئے عوام الناس کو ان کے منافق ہونے
کا کیا علم ہو سکتا تھا؟ اور ان کے قتل کر دینے سے ایک تو غیر مسلموں کو اسلام سے
نفرت ہو جاتی کہ مسلمان ہونے کے بعد کہیں ہماری باری نہ آ جائے اور دوسرے نومسلموں
کے دلوں میں کئی قسم کے شکوک پیدا ہو سکتے تھے۔ اس مصلحت کی بنا پر آپ ﷺ نے
منافقوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا، حالانکہ دوسرے منافق عموماََ اور رئیس
المنافقین عبداللہ بن اُبی خصوصاََ اپنی منافقانہ سازشوں کی بناء پر ہرگز جان بخشی
کے قابل اور مستحق نہیں تھا۔

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s