وسوسه =(إذا صح الحديث فهو مذهبي) صحیح حدیث میرا مذہب ہے

وسوسه = أئمه کی تقليد اس وجہ سے بهی ناجائز هے ، کہ ان ائمہ
نے خود اپنی تقلید سے منع کیا هے ، اورخاص کران أئمه أربعه میں سے هرایک نے ارشاد فرمایا
هے کہ (إذا صح الحديث فهو مذهبي) صحیح حدیث میرا مذہب ہے
جواب = یہ دعوی و وسوسہ بهی بالکل باطل هے ، کہ أئمه مجتهدين
نے مُطلقًا اپنی تقلید سے منع کیا هے ، ان أئمه مجتهدين میں سے کسی ایک سے بهی یہ بات
منقول نہیں هے ، اوراگربالفرض ان سے نہی عن التقليد ثابت بهی هو ، تو یہ نہی وممانعت
مُجتهد کے لیئے هے نہ کہ غیرمُجتهد کے لیئے
یہ سینکڑوں هزاروں کتابیں ائمہ اربعہ اوران کے اصحاب کیوں لکهی
هیں ؟؟
تمام اجتهادی وفروعی مسائل کی جمع وتدوین کیوں کی هے ؟؟
یہ سارا اهتمام اسی لیئے توکیا گیا تاکہ بعد میں آنے والے لوگ
بآسانی دین پر اورکتاب وسنت پرعمل کرسکیں
أئمه أربعه کے قول ((إذَا صَحَّ الْحَدِيثُ فَهُوَ مَذْهَبِي
)) کا صحیح مطلب
إمام نووي رحمہ الله نے اپنی کتاب (المجموع شرح المهذب) کے مُقدمہ
میں فرماتے ہیں کہ (( وهذا الذي قاله الشافعي ليس معناه أن كل واحد رأى حديثا صحيحا
قال هذا مذهب الشافعي وعمل بظاهره وإنما هذا فيمن له رتبة الاجتهاد في المذهب على ما
تقدم من صفته أو قريب منه وشرطه أن يغلب على ظنه أن الشافعي رحمه الله لم يقف على هذا
الحديث أو لم يعلم صحته وهذا إنما يكون بعد مطالعة كتب الشافعي كلها ونحوها من كتب
أصحابه الآخذين عنه وما أشبهها وهذا شرط صعب قل من يتصف به الخ)) . المجموع شرح المهذب،مقدمة
الإمام النووي
یعنی یہ جو امام شافعی رحمہ الله نے کہا هے کہ (إذا صح الحديث
فهو مذهبي
)
اس کا یہ معنی ومطلب نہیں هے کہ هرایک آدمی جب صحیح حدیث دیکهے
تو یہ کہے کہ یہ امام شافعی رحمہ الله کا مذهب هے ، اوراس کے ظاہر پر عمل کرے ، بلکہ
یہ حکم اس شخص کے لیئے هے ، جو مذهب میں اجتهاد کا درجہ رکهتا هو ، اوراس کی شرط یہ
ہے کہ اس کو غالب گمان ہوجائے کہ امام شافعی رحمه الله اس صحیح حدیث پر مطلع نہیں ہوئے
، یا اس حدیث کی صحت ان کو معلوم نہیں تھی ، اوریہ مرتبہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ
جب وه امام شافعی کی تمام کتب اوراسی طرح آپ کے أصحاب اورشاگردوں کی تمام کتابوں کا
(بنظر غائر) مطالعہ کرلے ، اوریہ بہت ہی مشکل شرط ہے ، بہت کم لوگوں میں اس شرط کی
اہلیت وقابلیت ہے
.
فائده = یاد رہے کہ إمام نوَوِي رحمه الله تعالى نے یہ کلام
وتبصره ساتویں صدی ہجری میں فرمایا ہے ، کہ اس زمانہ میں ان اوصاف سے متصف لوگ بہت
کم ہیں ، جو مذهب میں اجتهاد کا درجہ رکهتے هوں ، اور إمام نوَوِي خود کو بهی اس کا
اہل نہیں سمجهتے ، جبکہ إمام نوَوِي رحمہ الله امت مسلمہ کے جلیل القدر امام اور شيخ
الإسلام ہیں ، اور مذهب شافعى کے ستونوں میں سے ایک ہیں ، اور بہت سارے علوم مثلا حديث
شريف اورفقه وتفسير ورجال ولغت وزهد و وَرَع وتصوف وغیره میں آپ کی امامت وجلالت مسلم
ہے ، آپ کی تمام مُؤلَّفات کو اول دن سے شرف قبولیت حاصل ہے ، خصوصا “رياض الصالحين”
اور”الأذكار” اور”الأربعون” اور “شرح صحيح مسلم” وغیره
سے ہر متدین مسلمان واقف ہے ، اور علماء وطلبہ علم اورعام مسلمانوں سب کے لیے آپ کی
کتب مفید ونافع ہیں ، اور إمام نوَوِي رحمہ الله کے بعد شاید ہی کوئی عالم یا طالب
علم ایسا ہوگا ، کہ جس نے آپ کی مؤلَّفات سے استفاده نہ کیا ہو ، لہذا اس مختصر تصریح
سے ان لوگوں کی جہالت وحماقت کی واضح ہوگئ ، جو یہ مقولہ ((إذَا صَحَّ الْحَدِيثُ فَهُوَ
مَذْهَبِي )) استعمال کرکے عوام کو بہکاتے ہیں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام شافعی وغیره ائمہ کا یہ قول عامة الناس
کے لیئے اور ہر کس وناکس کے لیے نہیں ہے ، بلکہ اس قول کے مخاطب مُجتهد في المذهب یا
مُجتهد مطلق ہیں ، اسی طرح شوافع میں سے حافظ ابن الصلاح اور إمام تقي الدین السبكي
نے اور مالكيه میں سے إمام شهاب الدين القرافي اورأبو بكر المالكي نے بهی یہی تصریح
کی ہے ، اور حنفيه میں سے إمام بن الشحنه الحلبي نے اپنی ( شرح الهداية ) کے شروع میں
یہی بیان کیا ، اور آپ سے پهر دیگر حنفی علماء نے بهی یہی نقل کیا ، جیسا کہ امام ابن
عابدين شامي نے اپنی حاشيه یہی تصریح نقل فرمائی ہے ، اور إمام سبكي رحمه الله نے اس
مقولہ کی تشریح میں مستقل رسالہ (( “معنى قول الامام المطلبي إذا صح الحديث فهو
مذهبي” )) کے نام تحریر کیا . من شاء الوقوف علی المزید فلیراجع‏ الیها

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s