وسوسه = احناف ماتریدی عقیده رکهتے هیں اوردیگر مقلدین اشعری عقیده رکهتے هیں ، اور اشاعره وماتریدیه دونوں کے عقائد غلط وگمراه کن هیں

وسوسه = احناف ماتریدی عقیده رکهتے هیں اوردیگر مقلدین اشعری
عقیده رکهتے هیں ، اور اشاعره وماتریدیه دونوں کے عقائد غلط وگمراه کن هیں
جواب = یہ باطل وسوسہ بهی عوام الناس کو مختلف انداز سے یاد
کرایا جاتا هے ، اور فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل جاهل شیوخ اپنے جاهل مقلد عوام کو
وسوسہ پڑها دیتے هیں اور وه بے چارے اس وسوسہ کو یاد کرلیتے هیں ، اور آگے اس کو پهیلاتے
هیں ، فرقہ جدید اهل حدیث کے عوام کوتواشعری وماتریدی کا نام پڑهنا بهی نہیں آتا ،
اوریہی حال ان کے خواص کا هے ان کو کوئ پتہ نہیں هوتا کہ ماتریدی کون تها اشعری کون
تها ان کے کیاعقائد وتعلیمات هیں ؟ بس احناف سے ضد کی بنا پر انهوں سب کچهہ کرنا هے
، اس وسوسہ کے تحت کسی قدر تفصیل سے بات کرنا چاهتا هوں
تاريخ علم الكلام
کون نہیں جانتا کہ خاتم الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کی آمد
مبارک سے پہلے
دنیا کا شیرازه بکهرا هوا تها ، انسانیت میں انتشار وافتراق
تها ، نفرت وعداوت تهی ، تمام اعمال رذیلہ موجود تهے ، عقائد واخلاق کا کوئی ضابطہ
نہ تها ، عبد ومعبود کا صحیح رشتہ ٹوٹ چکا تها ، خاتم الانبیاء صلی الله علیہ وسلم
کی بعثت مبارکہ سے خزاں رسیده انسانیت بہار کے هم آغوش هوئی ، قلوب انسانی کی ویران
کهیتیاں لہلہا اٹهی انسانیت نے سراٹهایا ، اخلاق واعمال کی پاکیزگی عقائد حقہ کی پختگی
اورعبادات وطاعات کی لذت سے کائنات کا ذره ذره آشنا هوگیا ، خاتم الانبیاء صلی الله
علیہ وسلم کے بعد آپ کے جانثار اصحاب بهی پورے کائنات انسانی کے لیئے آپ کی سیرت وکردار
کامل ومکمل نمونہ تهے ، لیکن صحابہ کرام کا مبارک دورگذرنےکے بعد حالات مختلف هوئے
، اموی دورخلافت کے اخیرمیں علم وفن کی خدمت کے نام پر غیردینی علوم کا ترجمہ شروع
هوا ، فلاسفہ کی ایک جماعت نے عبرانی اور قبطی زبانوں سے هیئت وکیمیا کی کتابوں کا
عربی میں ترجمہ کیا ، اسی طرح ارسطو کے کچھ رسائل کو اور فارسی زبان کی بعض کتب کوعربی
میں منتقل کیا گیا ، پهر جب اسلام کو وسعت حاصل هوئی ، اور ایرانی قبطی یونانی وغیره
اقوام حلقہ بگوش اسلام هوئیں ، تو انهوں نے مسائل عقائد میں نکتہ آفرینیاں اور بال
کی کهال نکالنا شروع کردی ، اسلامی عقائد کا جوحصہ ان کے قدیم عقیده سے کسی درجہ میں
ملتا جلتا نظرآیا ، تو قدرتی طور پرانهوں نے اسی رنگ میں اس کی تشریح پسند کی ، پهر
عقل ونقل کی بحث نے اس خلیج کو اور وسیع کیا ، یہ سلسلہ چل هی رها کہ اموی خلافت کی
جگہ دولت عباسیہ نے لے لی ، اور اس نے دوسری مختلف زبانوں کے ساتھ حکمت وفلسفہ یونان
کا سارا ذخیره عربی میں منتقل کرکے مسلمانوں میں پهیلا دیا ، یونانی فلسفہ کے پهیلنے
کا نتیجہ یہ هوا کہ مسلمانوں کے مذهبی جذبات میں کمزوری کے ساتھ ساتھ باهم مذهبی اختلاف
اورگروه بندی کا دروازه بهی کهل گیا ، جس کے نتیجہ میں الحاد و زندقہ نے بال وپر نکالنے
شروع کردیئے ، اب تک عقائد سے متعلقہ مسائل کو ذهن نشین کرنے کا جوفطری طریقہ کتاب
وسنت کی بنیاد پرقائم تها ، حکمت وفلسفہ کی موشگافیوں اور کچھ دیگر انسانی اصطلاحات
وقواعد رواج پاجانے کے بعد علماء امت کی نظرمیں کچھ زیاده موثرنہیں رها ، اس طرح کے
حالات وماحول میں جب کہ شکوک وشبہات اور الحاد وزندقہ وگمراهی کے پاوں جمنے شروع هوچکے
تهے ، چنانچہ خلیفہ مهدی جو (
۱۵۷ هہ ) میں تخت نشین هوا ،
اس کے دور خلافت میں ملحدین وزنادقہ کی رد میں کتب لکهوانے کی ضرورت محسوس هونے لگی
، اور حکومت کی سرپرستی میں ایسی چند کتب لکهی گئیں یہ ” علم کلام ” کی پہلی
بنیاد تهی جومسلمانوں میں قائم هوئی ، پهر حالات کے پیش نظر دن بدن اس کام کی اهمیت
بڑهتی هی گئ ، حتی کہ علماء اسلام کی ایک مخصوص جماعت مجبور هوئ کہ وه اپنے آپ کواس
کام لیئے وقف کردیں ، لہذا مامون الرشید نے ایسے علماء کی بڑھ چڑھ کرحوصلہ افزائی کی
، اورحکومت وقت کی حوصلہ افزائی دیکھ کر علماء کا ایک ذهین طبقہ معقولات کی تحصیل میں
همہ تن مشغول هوگیا اور اس فن میں انهوں نے مہارت تامہ حاصل کی ، لیکن ان علماء میں
زیاده تر وه لوگ تهے جو ” مسلک اعتزال ” سے وابستہ تهے کیونکہ حکومت وقت
کا مزاج ومسلک بهی یہی مُعتزلہ والا ) تها انہی علماء کی کدوکاوش نے ( علم کلام ) کو
ایک خاص فن کا درجہ دیا اور انهوں نے هی اس فن کی جمع وتدوین کی
علامہ شہرستانی لکهتے هیں
ثم طالع بعد ذالك شيوخ المعتزلة كتب الفلاسفة حين فسرت أيام
المامون فخلطت مناهجها مناهج الكلام وأفردتها فنا من فنون العلم وسميتها باسم الكلام
. (الملل والنحل ج 1 ص 32 ) یعنی ” معتزلة ” کے اکابرنے فلاسفہ کی تصنیفات
کا مطالعہ کیا اور اس طرح کلام وفلسفہ کی مختلف راهیں ایک هوگئیں اور ایک نیا فن (
علم کلام ) کے نام سے ایجاد هوا
علم کلام کی وجہ تسمیہ (یہ نام کیوں رکهاگیا ) ؟
علامہ شہرستانی لکهتے هیں
أما لأن أظهر مسئلة تكلموا فيها وتقابلوا عليها هي مسئلة الكلام
فسمى النوع باسمها وأما لمقابلتهم الفلاسفة فى تسميتهم فنا من فنون علمهم بالمنطق والمنطق
والكلام مترادفان (الملل والنحل ج 1 ص 33 ) علم کلام کا اهم ترین موضوع بحث الله تعالی
کا کلام هی تها ، اسی وجہ سے اس فن کا نام ( علم کلام ) رکها گیا الخ
فرقہ معتزلہ کی تاریخ
معتزلہ کا سردار وپیشوا ابوالهذیل علاف تها ، اور اس نے اس فن
میں بہت سی کتب بهی لکهیں ، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله لکهتے هیں
أبوالهذيل العلاف شيخ المعتزلة ومُصنف الكتب الكثيرة فى مذاهبهم
كان خبيث القول فارق اجماع المسلمين ورد نص كتاب الله وجحد صفات الله تعالى عما يقول
علوا كبيرا وكان كذاباً أفاكاً مات سنة سبع وعشرين ومأتين ٠ ( لسان الميزان ص 413 ج
5
)
أبوالهذيل العلاف مُعتزلہ فرقہ کے شیوخ میں سے تها ، جس نے اعتزال
کے رنگ میں ڈوبی هوئ بہت سی کتب لکهیں ، یہ پہلا شخص هے جس نے نصوص قطعیہ کا انکارکیا
، صفات باری تعالی کوتسلیم کرنے سے انکارکیا ، جهوٹا ، لغوگو ، اور بدترین خلائق انسان
تها
۰
علامہ شہرستانی نے بهی یہی بات لکهی هے
فكان أبوالهذيل العلاف شيخهم الأكبر وافق الفلاسفة وأبدع بدعا
فى الكلام والإرادة وأفعال والقول بالقدر والآجال والأرزاق ٠ (الملل والنحل ج 1 ص
33
)
أبوالهذيل العلاف مُعتزلہ فرقہ معتزلہ کا سب سے بڑا شیخ تها
فلاسفہ کا موافق تها
افعال عباد ، اراده ، تقدیر، رزق ، تمام مسائل میں امت کے قطعی
نظریات سے صاف پهر گیا تها
۰
حافظ ذهبی نے بهی اپنی کتاب (سير أعلام النبلاء) میں تقریبا
یہی بات لکهی هے
أبو الهذيل العلاف ورأس المعتزلة أبو الهذيل محمد بن الهذيل
البصري العلاف صاحب التصانيف الذي زعم أن نعيم الجنة وعذاب النار ينتهي بحيث إن حرمات
أهل الجنة تسكن وقال حتى لا ينطقون بكلمة وأنكر الصفات المقدسة حتى العلم والقدرة وقال
هما الله وأن لما يقدر الله عليه نهاية وآخرا وأن للقدرة نهاية لو خرجت إلى الفعل فإن
خرجت لم تقدر على خلق ذرة أصلا وهذا كفر وإلحاد
۰
فرقہ معتزلہ کا بانی
اورفرقہ معتزلہ کا بانی وموسس واصل بن عطاء البصري تها،پهراس
کے بعد أبو الهذيل حمدان بن الهذيل العلاف هے جوشيخ المعتزلة، ومقدم الطائفة، ومقرر
الطريقة، والمناظر کے القاب سے معروف هے ، اس نے مذهب اعتزال عثمان بن خالد الطويل
سے بطریق واصل بن عطاء کے حاصل کیا ،(الملل والنحل ج1
ص 64 )اور ( فرقة الهُذيلية) اسی کی طرف منسوب هے
اسی طرح إبراهيم بن يسار بن هانئ النظَّام نے کتب فلاسفہ کا
بکثرت مطالعہ کیا اور فلاسفہ کا کلام معتزلہ کے کلام کے ساتهہ ملایا اور ( فرقة النظاميّة
) اسی کی طرف منسوب هے. اسی طرح معمر بن عباد السلمي هے جس کی طرف ( فرقة المعمرية.)
منسوب هے .اسی طرح عيسى بن صبيح المكنى بأبي موسى الملقب بالمردار اس کو راهب المعتزلة
کہا جاتا تها ( فرقة المردارية.) اس کی طرف منسوب هے.اسی طرح ثمامة بن أشرس النميري
یہ آدمی بادشاه المأمون اورالمعتصم اور الواثق، کے عہد میں ( قدرية ) فرقہ کا سربراه
تها ، اور اس کے فرقہ کو ( الثماميّة ) کہا جاتا هے. اسی طرح أبو عثمان عمرو بن بحر
الجاحظ فرقة معتزلة کے بہت بڑے لکهاری تها اور کتب فلاسفہ سے خبردار اور ادب وبلاغت
میں ماهر تها (الجاحظية.) فرقہ اسی کی طرف منسوب هے.اسی طرح أبو الحسين بن أبي عمر
الخياط هے جو بغداد کا معتزلی هے ( الخياطية)اسی کی طرف منسوب هے.اسی طرح القاضي عبد
الجبار بن أحمد بن عبد الجبار الهمداني یہ متاخرین معتزلہ میں سے تها اور اپنے زمانہ
کے بہت بڑا شيوخ المعتزلة میں تها اور مذهب معتزلہ کے اصول وافکار وعقائد کو بڑا پهیلایا
، اور معتزلہ کا بڑا مشہور مناظر تها.حاصل کلام یہ کہ ( فرقه معتزله ) کے کل بائیس
بڑے فرقے بن گئے تهے ، هر فرقہ سب کی تکفیر کرتا تها ، ان فرقوں کی کچهہ تفصیل میں
نے لکهہ دی هے
اجمالی طور پران کے اسماء درج ذیل هیں
الواصلية، والعمرية، والهذيلية، والنظامية، والأسوارية، والمعمرية،
والإسكافية، والجعفرية، والبشرية، والمردارية، والهشامية، والتمامية، والجاحظية، والحايطية،
والحمارية، والخياطية، وأصحاب صالح قبة، والمويسية، والشحامية، والكعبية، والجبابية،
والبهشمية المنسوبة إلى أبي هاشم بن الحبالى الفرق بين الفرق للبغدادي: ص104
جس علم کی تدوین کے بنیادی اراکین میں میں أبو الهذيل العلاف جیسے
لوگ شامل هوں تو پهر اس کے نقش قدم پرچلنے والے لوگ کیسے هوں گے ؟پهر اس فن کے لیئے
جواصول وضوابط نافذ کیئے گئے وه اسلام کے اصل نہج سے کتنے دور هوں گے ؟علماء اسلام
نے بعد میں معتزلہ کے رواج دیئے هوئے نظریات کو مٹانے کی کوشش کی لیکن جو خمیر معتزلہ
ڈال چکے تهے وه مکمل طور پرپاک نہ هوسکا ، لہذا قدیم علم کلام میں کی کتب میں اس طرح
مباحث بکثرت موجود هیں ، پهر اس فلسفیانہ طرز استدلال ونظریہ نے جو نقصان پہنچایا وه
بالکل ظاهر هے ، حتی کہ آج بهی آزاد طبع لوگ معتزلی نظریات کوقبول کرلیتے هیں ،بہرحال
علم کلام ترقی کرتا رها
علم کلام کی تاریخ کے سلسلہ میں علامہ شہرستانی جیسا مستند وذمہ
دار آدمی رقمطراز هے أما رونق علم الكلام فابتداءه من الخلفاء العباسية هارون والمامون
والمعتصم والواثق والمتوكل وأما إنتهائه فمن صاحب ابن عباد وجماعة من الديالمة
( ألملل والنحل ج 1 ص 39
)علم کلام کی ابتداء خلفاء عباسیہ خصوصا هارون اور مامون کے دور میں هوئ ،اور معتصم
، واثق ، متوكل کے عہد سلطنت میں بهی اس فن کو عروج حاصل هوا ، اور پهر یہ فن صاحب
بن عباد اور دیالمہ کے وقت میں انتہائ حدود میں داخل هوگیا
ان گهمبیر حالات میں جس کی سرسری جهلک گذشتہ سطور میں آپ نے
ملاحظہ کی کہ معتزلہ اور ذیلی گمراه فرقوں کے نظریات پهیلتے جارهے تهے ، الله تعالی
نے أمة محمديه کی هدایت وراهنمائی ایسے رجال وافراد کو منتخب کیا جنهوں نے دین حنیف
اور عقائد حقہ کی حفاظت وحمایت وصیانت کا کام بڑے اعلی درجات اور منظم طریقہ سے انجام
دیا ، اور ملحدین وزنادقہ وفرق ضالہ کے اوهام ونظریات کا ادلہ وبراهین کے بهرپور رد
کیا ، اور معتزلہ اور دیگرفرق ضالہ کے انتشار کے بعد الله تعالی نے شیخ أبو الحسن الأشعري
اور شیخ أبي المنصور الماتريدي کو پیدا کیا ، لہذا ان دونوں بزرگوں نے عقائد اهل سنت
کی حفاظت وحمایت کا کام بڑی محنت شاقہ کے ساتهہ شروع کیا ، اور صحابہ وتابعین وتبع
تابعین کے عقائد کی حفاظت وصیانت کا ذمہ اٹهایا ،اور اپنے زبان وقلم سے دلائل نقلیہ
وعقلیہ سے اس کا اثبات کیا ، اور مستقل کتب وتالیفات میں عقائد اهل سنت کو جمع کیا
، اور ساتهہ ساتهہ معتزلہ اوران سے نکلنے والے دیگرفرق ضالہ کے شبہات ونظریات کا بڑے
زور وشور سے رد کیا ، لہذا اس کے بعد تمام اهل سنت اشعری یا ماتریدی کہلانے لگے ،اور
یہ نسبت اس لیئے ضروری تها تاکہ دیگر فرق ضالہ سے امتیاز وفرق واضح رهے ، لهذا اس کے
بعد ان دو ائمہ کے منهج پرچلنے لوگ اهل سنت کہلائے
ترجمة الإمام أبو الحسن الأشعري رحمه الله
أبو الحسن علي بن إسماعيل بن أبي بشر إسحاق بن سالم بن إسماعيل
بن عبد الله بن موسى بن بلال بن أبي بُردَةَ عامر ابن صاحب رسول الله صلى الله عليه
وسلم أبي موسى الأشعري
تاریخ ولادت و وفات
آپ کی ولادت ( 260 هہ ) میں هوئ بعض نے (270 هہ ) بتایا ، اور
آپ کی تاريخ وفات میں اختلاف هے بعض نے ( 333 هہ ) بعض نے ( 326 هہ
)
بعض نے ( 330 هہ ) بغداد میں آپ فوت هوئے مقام ( الكرخ اور باب
البصرة) کے درمیان مدفون هوئے ، ابتداء حیات میں آپ نے مذهب اعتزال أبي علي الجبَّائي
معتزلی سے پڑها ، اور ایک مدت تک اسی پر رهے ، پهر آپ نے مذهب اعتزال سے توبہ کیا ،
اور بالکلیہ طور پر اس کوخیرباد کہ دیا ، اور بصره کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن کرسی
ومنبرپرچڑهہ کر بآواز بلند ببانگ دهل یہ اعلان کیا ، کہ اے لوگو جس نے مجهے پہچانا
اس نے مجهے پہچانا ، اور جس نے مجهے نہیں پہچانا میں اس کو اپنی پہچان کراتا هوں ،
لہذا میں فلان بن فلان قرآن کے مخلوق هونے کا قائل تها ، اور یہ کہ الله تعالی رویت
آخرت میں آنکهوں کے ساتهہ نہیں هوسکتی ، اور یہ کہ بندے اپنے افعال کے خود خالق هیں
، اور اب میں مذهب اعتزال سے توبہ کرتا هوں ، اور میں معتزلہ کے عقائد پر رد کروں گا
، اور ان کے عیوب وضلالات کا پرده چاک کروں گا ، اور میں نے الله تعالی سے هدایت طلب
کی الله تعالی نے مجهے هدایت دی ، اور میں اپنے گذشتہ تمام نظریات کو اس طرح اتارتا
هوں جس یہ کپڑا اتارتا هوں ، پهر اس کے بعد بطورمثال اپنے جسم پرجو چادر تها اتار کرپهینک
دیا ، پهر لوگوں کو وه کتابیں دیں جو مذهب أهل الحق اهل السنه کے مطابق تالیف کیں
امام اشعرى کے تلامذه
ایک كثير مخلوق نے آپ سے استفاده کیا ، بڑے بڑے أعلام أكابر
علماء نے آپ کے مسلک کی اتباع کی ، اور عقائد أهل السنة کی نصرت میں آپ کے اصول کو
اپنایا ، اور آپ کے تلامذه کی تعداد وتذکره علماء امت نے مستقل طور پرآپ کے سوانح میں
کیا ، قاضي القضاة الشيخ تاج الدين ابن الامام قاضي القضاة تقي الدين السبكي الشافعی
نے اپنی کتاب ( طبقات الشافعية ) میں ایک خاص فصل میں آپ کا تذکره کیا ،
اور امام سبکی الشافعی نے آپ کے ترجمہ کی ابتداء ان الفاظ میں
کی
شيخنا وقدوتنا إلى الله تعالى الشيخ أبو الحسن الأشعري البصري
شيخ طريقة أهل السنة والج
ـماعة وإمام المتكلمين وناصر سنة سيد المرسلين والذاب عن الدين
والساعي في حفظ عقائد المسلمين سعيًا يبقى أثره إلى يوم يقوم الناس لرب العالمين إمام
حبر وتقي بر حمى جناب الشرع من الحديث المفترى وقام في نصرة ملّة الإسلام فنصرها نصرًا
مؤزرًا وما برح يدلج ويسير وينهض بساعد التشمير حتى نقَّى الصدور من الشُّبه كما ينقى
الثوب الأبيض من الدنس ووقى بأنوار اليقين من الوقوع في ورطات ما التبس فلم يترك مقالاً
لقائل وأزاح الأباطيل، والحق يدفع ترهات الباطل . اهہ
اسی طرح مؤرخ الشام اور حافظ الحدیث الشیخ أبو القاسم علي بن
الحسن بن هبة الله بن عساكر نے الشيخ أبو الحسن الأشعري کی مناقب ومؤلفات وسوانح پرمستقل
کتاب لکهی.اوردیگر تمام علماء امت نے بهی اپنی کتب میں آپ کا تذکره کیا ، اور سب نے
آپ کو اهل سنت کا امام قرار دیا ،
حافظ ابن العماد الحنبلي نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا
الإمام العلامة البحر الفهامة المتكلم صاحب المصنفات ثم قـالوممّا بيض به وجوه أهل
السنة النبوية وسود به رايات أهل الاعتزال والجهمية فأبان به وجه الحق الأبلج ولصدور
أهل ا لإيمان والعرفان أثلج، مناظرته مع شيخه الجبائي التي قصم فيها ظهر كل مبتدع مرائي
اه
ـ.شذرات الذهب (2/ 303،
305
).
امام شمس الدين بن خلكان نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا
صاحب الأصول والقائم بنصرة مذهب أهل السنة وإليه تنسب الطائفة
الأشعرية، وشهرته تغني عن الإطالة في تعريفه اه
ـ.وفيات ا لأعيان (3/ 284ء286).
امام أبو بكر بن قاضي شهبة نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا
الشيخ أبو الحسن الأشعري البصري إمام المتكلمين وناصر سنة سيد
المرسلين، والذاب عن الدين” ا.ه
ـ.طبقات الشافعية (1/ 113).
علامه يافعي شافعي نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا الشيخ الإمام
ناصر السنة وناصح الأمة، إمام الأئمة الحق ومدحض حجيج المبدعين المارقين، حامل راية
منهج الحق ذي النور الساطع والبرهان القاطع اه
ـ مرأة الجنان (2/ 298).
علامه القرشي الحنفي نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا
صاحب الأصول الإمام الكبير وإليه تنسب الطائفة الأشعرية
الجواهر المضية في طبقات الحنفية 21/ 544، ه 54).
علامه الأسنوي الشافعي نے آپ کا ذکران الفاظ میں کیا
هو القائم بنصرة أهل السنة القامع للمعتزلة وغيرهم من المبتدعة
بلسانه وقلمه، صاحب التصانيف الكثيرة، وشهرته تغني عن ا لإطالة بذكره طبقات الشافعية
(1/ 47
).
خلاصہ یہ هے کہ ائمہ اسلام کے تعریفی وتوصیفی اقوال وآراء امام
اشعرى اورامام أبو منصور الماتريدي کے متعلق بیان کروں توایک مستقل کتاب تیار هوجائے
، بطور مثال چند ائمہ کے اقوال ذکرکردیئے تاکہ ان جاهل لوگوں کوهدایت هوجائے ، جو جہلاء
کی اندهی تقلید میں امت مسلمہ کے کبارائمہ پرلعن طعن کرتے هیں ، جب ان جہلاء کی اپنی
حالت یہ هے کہ الف باء سے واقف نہیں . فالی الله المشتکی
امام أبو الحسن الأشعري کے مؤلفات
آپ کی کتب وتالیفات بہت زیاده هیں ، بطورمثال چند کتب کا ذکرکرتا
هوں
ا- إيضاح البرهان في الرد على أهل الزيغ والطغيان.
2- تفسير القرءان، وهوكتاب
حافل جامع
.
3- الرد على ابن الراوندي في
الصفات والقرءان
.
4- الفصول في الرد على الملحدين
والخارجين عن الملّة
.
5- القامع لكتاب الخالدي في
الارادة
.
6- كتاب الاجتهاد في الأحكام.
7- كتاب الأخبار وتصحيحها.
8 –تاب الإدراك في فنون من
لطيف الكلام
.
9- كتاب الإمامة.
10-التبيين عن أصول الدين.
11- الشرح والتفصيل في الرد
على أهل الإفك والتضليل
.
12- العمد في الرؤية.
13- كتاب الموجز.
14- كتاب خلق الأعمال.
15- كتاب الصفات، وهو كبير تكلم
فيه على أصناف المعتزلة والجهمية
.
16- كتاب الرد على المجسمة .
17- اللمع في الرد على أهل الزيغ
والبدع
.
18-النقض على الجبائي.
19- النقض على البلخي.
20- جمل مقالات الملحدين.
21- كتاب في الصفات وهو أكبر
كتبه نقض فيه ءاراء المعتزلة وفند أقوالهم وأبان زيغهم وفسادهم
.
22-أدب الجدل.
23- الفنون في الرد على الملحدين.
24- النوادر في دقائق الكلام.
25- جواز رؤية الله تعالى بالأبصار.
26- كتاب الإبانة.
ترجمة الإمام أبو منصور الماتريدي
أبو منصور محمد بن محمد بن محمود الماتريدي السمرقندي،
ماتریدی نسبت هے ماترید کی طرف اور یہ سمرقند ماوراء النهر میں
ایک مقام کا نام هے ، اورامام أبو منصور الماتريدي کوبهی علماء امت نے “إمام الهدى”
و “إمام المتكلمين” و “إمام أهل السنه ” وغير ذلك القابات سے یاد
کیا ،
آپ کی تاریخ ولادت کے متعلق کوئی متعین تاریخ تونہیں ملتی ،
مگر علماء کرام نے لکها هے کہ آپ کی ولادت عباسی خليفة المتوكل کے عهد میں هوئی ، اور
آپ کی ولادت امام أبي الحسن الأشعري سے تقریبا بیس سال قبل هوئی هے ، اور آپ نے جن
مشائخ سے علم حاصل کیا ان سب کی سند الإمام الجليل الإمام الاعظم أبي حنيفة النعمان
سے جاملتی هے ،
اورآپ علوم القرآن اورأصول الفقه اورعلم الكلام والعقائد کے
بے مثال ومستند امام هیں ، اورآپ کی پوری زندگی حمايت إسلام اورعقائد أهل السنة والجماعة
کی نصرت سے عبارت هے ، اورآپ بالاتفاق أهل السنة والجماعة کے امام جلیل اور أهل السنة
والجماعة کی عقائد کے محافظ اور قاطع اعتزال وبدعات قرارپائے ، معتزلہ اوردیگر فرق
ضالہ کا اپنی مناظرات ومحاورات میں اور تصنیفات وتالیفات میں بهرپور رد وتعاقب کیا
، اور تمام عمرعقائد أهل السنة کی حفاظت وصیانت وتبلیغ وتشہیرکی
مؤلفات الإمام أبو منصور الماتريدي
آپ کے کئ مؤلفات هیں جن کا تذکره علماء امت نے آپ کے ترجمہ میں
کیا هے
جن میں سے بعض کے نام درج ذیل هیں
1 = كتاب التوحيد
2 = المقالات
3 = الرد على القرامطة
4 = بيان وهم المعتزلة
5 = رد الأصول الخمسة لأبي محمد
الباهلي
6 = أوائل الأدلة للكعبي
7 = رد كتاب وعيد الفساق للكعبي
8 = رد تهذيب لجدل للكعبي
9 = كتاب الجدل
10 = مأخذ الشرائع في أصول الفقه
11 = شرح الفقه الأكبر
12 = تأويلات أهل السنة
بعض نسخوں میں اس کتاب کا نام “تاويلات الماتريدي في التفسير”
هے
إمام عبد القادر القرشي المتوفى سنة ۷۷۵هــ اس کتاب کے متعلق فرماتے
هیں کہ یہ ایسی کتاب هے کہ اس فن میں لکهی گئ پہلی کتابوں میں سے کوئی کتاب اس کے برابربلکہ
اس کے قریب بهی نہیں پہنچ سکتی.اس کتاب کے مقدمہ کی ابتداء ان الفاظ سے هوتی هے
قال الشيخ الإمام الزاهد علم الدين شمس العصر رئيس أهل السنة
والجماعة أبو بكر محمد بن أحمد السمرقندي رحمه الله تعالى إن كتاب التاويلات المنسوب
إلى الشيخ الإمام أبي منصور الماتريدي رحمه الله كتاب جليل القدر عظيم الفائدة في بيان
مذهب أهل السنة والجماعة في أصول التوحيد ومذهب أبي حنيفة وأصحابه رحمهم الله في أصول
الفقه وفروعه على موافقة القرأن اه
ــ
صاحب “كشف الظنون” نے یہ تصریح کی هے کہ یہ کتاب آٹهہ
جلدوں میں هے اور شيخ علاء الدين بن محمد بن أحمد نے اس کو جمع کیا هے ، حاصل یہ کہ
بطور مثال آپ کے علمی میراث کی ایک جهلک آپ نے ملاحظہ کی ، اور جیساکہ میں گذشتہ سطور
میں عرض کرچکا هوں کہ ان دو جلیل القدر ائمہ اهل سنت کے ترجمہ وسوانح وکمالات وکارناوں
پرمستقل کتب موجود هیں ، یہاں تواختصارکے ساتهہ ان کا تذکره مقصود هے ، تاکہ ایک صالح
متدین آدمی کے علم میں اضافہ هو ، اور اس کے دل میں ان جلیل القدر ائمہ اهل سنت کا
احترام وعظمت زیاده هوجائے ، اور جوشخص جہل کی وجہ سے ان کے ساتهہ بغض رکهتا هے ان
پرلعن طعن کرتا هے اس کی اصلاح هوجائے ٠
إمام ماتريدي كى تاريخ وفات
صاحب كتاب “كشف الظنون” نے ذکرکیا هے کہ آپ کی وفات
( 332ه
ــ ) میں هوئ هے ، دیگر کئ
مؤرخين نے سنہ وفات ( 333ه
ــ ) بهى لكهى هے ،علامه عبد الله القرشي نے بهى “الفوائد
البهية” میں سنہ وفات ( 333ه
ــ ) بتائ هے ، اور آپ کی قبرسمرقند میں هے
امت مسلمہ کے کبارمحدثین ومفسرین وفقہاء وائمہ اشعری وماتریدی
هیں
بطورمثال چند کا تذکره پیش خدمت هے
1 = الإمام الحافظ أبو الحسن
الدارقطني رحمه الله تعالى
2 = الحافظ أبو نعيم الأصبهاني
رحمه الله تعالى، صاحب حلية الأولياء
3 = الحافظ أبو ذر الهروي عبد
بن أحمد رحمه الله تعالى
4 = الحافظ أبو طاهر السلفي
رحمه الله تعالى، (الطبقات 3/372
)
5 = الحافظ الحاكم النيسابوري
رحمه الله تعالى صاحب المستدرك على الصحيحين،
اپنے زمانہ کے إمام أهل الحديث هیں کسی تعارف کے محتاج نہیں
هیں
اورعلماء امت کا اتفاق هے کہ امام حاکم ان بڑے علم والے ائمہ
میں سے ایک هیں جن کے ذریعہ سے الله تعالی نے دین متین کی حفاظت کی
6 = الحافظ الإمام الثبت القدوة
ابن حبان البستي رحمه الله تعالى صاحب الصحيح وكتاب الثقات وغيرها
7 = الحافظ أبو سعد ابن السمعاني
رحمه الله تعالى، صاحب كتاب الأنساب
.
8 =الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي
رحمه الله تعالى صاحب التصانيف الكثيرة الشهيرة
9 = الإمام الحافظ ابن عساكر
رحمه الله تعالى
10 = الإمام الحافظ الخطيب البغدادي
رحمه الله تعالى
11 = الإمام الحافظ محي الدين
يحيى بن شرف النووي محي الدين رحمه الله تعالى
امام نووی کسی تعارف کےمحتاج نہیں هیں ، دنیا کا کون سا حصہ
ایسا هے جہاں آپ کی کتاب رياض الصالحين اور کتاب الأذكار اورشرح صحيح مسلم نہیں هے
؟؟
12 = شيخ الإسلام الإمام الحافظ
أبو عمرو بن الصلاح رحمه الله تعالى
13 = الإمام الحافظ ابن أبي جمرة
الأندلسي مسند أهل المغرب رحمه الله تعالى
14 = الإمام الحافظ الكرماني
شمس الدين محمد بن يوسف رحمه الله ، صاحب الشرح المشهور على صحيح البخاري
15 = الإمام الحافظ المنذري رحمه
الله تعالى صاحب الترغيب والترهيب
.
16 = الإمام الحافظ الأبي رحمه
الله تعالى شارح صحيح مسلم
17 = الإمام الحافظ ابن حجر العسقلاني
رحمه الله تعالى
18 = الإمام الحافظ السخاوي رحمه
الله تعالى
19 = الإمام الحافظ السيوطي رحمه
الله تعالى
20 = الإمام القسطلاني رحمه الله
تعالى شارح الصحيح
21 = الإمام الحافظ المناوي رحمه
الله تعالى
یہ تمام شخصیات علم وفضل کے روشن مینار ہیں ، اور ان کی باقیات
صالحات اور گراں قدر علمی میراث امت مرحومہ کے لیے مشعل راه ہے ، ان میں ہر ایک علم
کا ایک سمندر ہے ،
خلاصہ کلام یہ کہ اگراشاعره وماتریدیه علماء امت کی صرف اسماء
کو بهی جمع کیا هے ، توایک ضخیم کتاب تیارهوجائے ، مذکوره بالا ائمہ میں اکثر شافعی
المسلک هیں ، اس کے بعد احناف ، مالکیہ ، حنابلہ ، کے تمام حفاظ حدیث وائمہ اسلام جوکہ
اشاعره وماتریدیه هیں ان کا تذکره هماری بس سے باهر هے ، کیونکہ علماء اسلام کا ایک
ٹهاٹهیں مارتا هوا سمندر هے ، جنهوں نے عقائد واصول میں امام أبو الحسن الأشعري اور
امام أبو منصور الماتريدي کی اتباع کی ، یہاں سے آپ ان جاهل لوگوں کی جہالت وحماقت
کا اندازه بهی لگالیں ، جویہ کہتے هیں کہ اشعری وماتریدی توگمراه هیں ( معاذالله )
، کیا اتنے بڑے کبارائمہ گمراه لوگوں کی اتباع کرنے والے تهے ؟؟

بس جہالت اور
اندهی تقلید کی زنده مثالیں کسی نے دیکهنی هوتو وه فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل عوام
وخواص کو دیکهہ لے ، کسی شخص یا کسی مسئلہ کے بارے علم نہیں هوتا ، لیکن ضد وتعصب واندهی
تقلید میں اس کو پهیلاتے جاتے هیں ، اور دلیل یہ هوتی هے کہ فلاں شیخ صاحب سے سنا هے
، اب اگراس جاهل شیخ کی غلطی کوئی ظاهرکربهی دے ، پهر بهی یہ بے وقوف لوگ اس جاهل شیخ
کی دم نہیں چهوڑتے ، اور جواب بزبان حال وقال یہی دیتے هیں کہ خبردینے والا بڑا پکا
هے ، آخر ایسی ضد وجہالت کا علاج کس کے پاس هے ؟؟

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s