وسوسه = اشاعره اور ماتریدیه میں مسائل عقیده میں اختلاف هے توپهر ان میں حق پرکون هوا ؟؟

وسوسه = اشاعره اور ماتریدیه میں مسائل عقیده میں اختلاف هے
توپهر ان میں حق پرکون هوا ؟؟
جواب = اشاعره اور ماتریدیه میں اصول عقیده میں کوئی اختلاف
نہیں هے ،چند فروعی مسائل میں اختلاف هے جوکہ مضرنہیں هے یہ ایسا اختلاف نہیں هے جس
کی بنا پر ان میں سے کوئی فرقہ ناجیہ هونے سے نکل جائے ، لہذا امام اشعري اورامام ماتريدي
کے مابین بعض جزئی اجتهادی مسائل میں خلاف هے ، اور علماء امت نے ان مسائل کوبهی جمع
کیا هے ، امام تاج الدين السبكي رحمه الله نے ان مسائل کوجمع کیا اور فرمایا کہ یہ
کل تیره مسائل هیں ،
تفحصت كتب الحنفية فوجدت جميع المسائل التى فوجدت جميع المسائل
التى بيننا وبين الحنفية خلاف فيها ثلاث عشرة مسائل منها معنوي ست مسائل والباقي لفظي
وتلك الست المعنوية لا تقتضي مخالفتهم لنا ولا مخالفتنا لهم تكفيراً ولا تبديعاً، صرّح
بذلك أبو منصور البغدادي وغيره من أئمتنا وأئمتهم (( طبقات الشافعية ج
۳ ص ۳۸ ))
امام تاج الدین سُبکی شافعی فرماتے هیں کہ میں نے احناف کی کتابوں
کا بغور مطالعہ کیا تومیں نے صرف تیره مسائل کوپایا جن میں همارا اختلاف هے اور ان
میں چهہ مسائل میں تو محض معنوی ( تعبیرکا ) اختلاف هے اور باقی (سات ) مسائل میں محض
لفظی اختلاف هے ، اور پهر ان چهہ مسائل میں معنوی ( تعبیرکا ) اختلاف کا مطلب هرگزیہ
نہیں هے کہ اس کی وجہ سے هم ایک دوسرے کی تکفیر اور تبدیع ( بدعت کا حکم ) کریں ، استاذ
أبو منصور البغدادي وغيره نے همارے ائمہ میں اور اسی طرح ائمہ احناف نے بهی یہی تصریح
کی هے
.
بالکل یہی بات علامہ ملا علی قاری رحمه الله نے بهی کی هے
وقال العلامة على القارى فى المرقات ( ج 1 ص 306 ) وماوقع من
الخلاف بين الماتريدية والأشعرية فى مسائل فهى ترجع الى الفروع فى الحقيقة فانها لفظيات
فلم تكن من الإعتقادات المبينة على اليقينيات بل قال بعض المحققين ان الخُلف بيننا
فى الكل لفظي اه
ـ
اشعریہ وماتریدیہ کے مابین بعض مسائل میں اختلاف حقیقت میں فروعی
اختلاف هے ، اور یہ ظنی مسائل هیں ان اعتقادی مسائل میں سے نہیں هیں جو یقینیات کے
اوپرمبنی هیں ، بلکہ بعض محققین نے تویہ کہا هے کہ اشاعره اور ماتریدیه کے درمیان سب
مسائل خلافیہ میں محض لفظی اختلاف هے
حاصل کلام یہ ہے کہ اشاعره اور ماتریدیه عقائد میں ایک هیں ،
اور هم یہ کہ سکتے هیں کہ اشعری ماتریدی هے ، اور ماتریدی اشعری هے ، کیونکہ ان دونوں
جلیل القدر ائمہ نے تو عقائد حقہ کو جمع ونشرکیا هے ، اور اصول عقائد ان کے پاس وهی
هیں ، جو صحابہ تابعین وتبع تابعین کے تهے ، بس ان دو اماموں نے تو ان عقائد کی تبلیغ
وتشہیر ونصرت وحفاظت وحمایت کی ہے ، جیسا کہ صحابہ تابعین وتبع تابعین عقائد تهے وهی
اشاعره اور ماتریدیه کےعقائد هیں ، اب وه لوگ کتنے خطرے میں هیں جو احناف اور امام
ابوحنیفہ سے ضد وتعصب کی بنا پر اشاعره اور ماتریدیه کے عقائد کوگمراه وغلط کہ دیتے
هیں ، اگر امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں صحیح احادیث کو جمع کرنے کا اهتمام کیا
، تواب اگر کوئی بے وقوف شخص امام بخاری کے ساتهہ عداوت وتعصب کی بنا پر صحیح بخاری
کا انکار کرے ، یا اس کو غلط کہے ، تو ایسا شخص حقیقت میں احادیث رسول کے انکار کا
ارتکاب کر رها هے ، کیونکہ امام بخاری نے تو صرف احادیث رسول کی حفاظت وصیانت کی اور
ان کو اپنی کتاب میں جمع کردیا ، بعینہ یہی حال امام اشعري اورامام ماتريدي کا هے کہ
ان دو ائمہ نے صحابہ تابعین وتبع تابعین کے عقائد حقہ کی حفاظت وحمایت کی ، اور اپنی
کتابوں میں اس کو لکهہ کر آگے لوگوں تک پہنچا دیا ، اب کوئی جاهل کوڑمغز اشاعره اور
ماتریدیه کے عقائد کوگمراه کہے تو اس کی اس بکواس کا پہلا نشانہ کون بنتا هے ؟؟
وسوسه = امام أبو الحسن الأشعري اور امام أبو منصور الماتريدي
کے بعد لوگ اپنے آپ کو اشعری وماتریدی کیوں کہنے لگے ؟؟ اور اشاعره
وماتریدیه کی نسبت کیوں اختیار کی گئ ؟؟
جواب = اس سوال کا جواب چوتهی صدی هجری کے عالم اور امت مسلمہ
کے مستند ومعتبرامام وفقیہ ومحدث ومفسر حفظ واتقان وضبط میں سب سے فائق مرجع العوام
والخواص تمام علوم الشرعية کے بے مثل امام ،
میری مراد الإمام الحافظ أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي رحمه
الله تعالى هیں ،
جن کے متعلق حدیث ورجال کے مستند امام حافظ الذهبی اس طرح تبصره
کرتے هیں ، کہ اگر امام بيهقي چاهتے تو اپنا ایک مستقل اجتهادی مذهب ومسلک بنا لیتے
، کیونکہ اجتهاد پرقادرتهے ، اورعلوم میں وسعت رکهتے تهے ، اور اختلاف کی معرفت رکهتے
تهے . یعنی امام بيهقي میدان اجتهاد کے شہسوار تهے ، لیکن باوجود اس اهلیت وکمال کے
دین میں امام شافعی کی راهنمائی وتقلید کا دامن پکڑا ، میں نے یہ چند کلمات اس لیئے
عرض کیئے تاکہ امام بيهقي کا مرتبہ پہلے ذهن نشین هوجائے ، اب میں مذکوره سوال کا جواب
اسی امام کی زبانی نقل کرتا هوں
قال الحافظ أبو بكر البيهقي رحمه الله تعالى
إلى أن بلغت النوبة إلى شيخنا أبي الحسن الأشعري رحمه الله فلم
يحدث في دين الله حَدَثاً، ولم يأت فيه ببدعة، بل أخذ أقاويل الصحابة والتابعين ومن
بعدهم من الأئمة في أصول الدين فنصرها بزيادة شرح وتبيين،الخ (تبيين كذب المفتري
103، الطبقات الكبرى للتاج السبكي 3/397 ) . یہاں تک کہ نوبت همارے شیخ أبي الحسن الأشعري
رحمه الله تک جا پہنچی ، پس اس ( أبي الحسن الأشعري ) نے دین میں کوئی نئ چیزایجاد
نہیں کی ، اور نہ کوئی بدعت لے کرآئے ، بلکہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین اور ان کے بعد
آنے والے ائمہ کے اقوال کو اصول الدین اورعقائد میں لیا ، اور اس کی بهرپور نصرت کی
اور اس کی مزید شرح وبیان وتفسیر فرمائی
.
دیگرائمہ نے بهی یہی بات کہی هے ، کہ اشعری وماتریدی کی طرف
نسبت وانتساب کی حقیقت صرف یہی هے کہ ان دوائمہ نے اپنی پوری زندگی عقائد اهل سنت کی
حفاظت وصیانت ودفاع وجمع وتدوین وتبلیغ وتشہیر میں صرف کردی ، لہذا تمام اهل سنت هر
زمانہ میں ان کے بعد ان کی طرف نسبت کرنے لگے ، تاکہ دیگرگمراه وبدعتی افراد وجماعات
سے امتیاز وفرق رهے . فقط
تمام أهل سنة والجماعة خواص وعوام أشعری اور ماتريدي ہیں
فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل جاہل شیوخ عوام الناس کو ایک وسوسہ
پڑها دیتے هیں ، اور پهر جاهل مقلد عوام اسی وسوسہ کو یاد کرکے رات دن گردانتے رهتے
هیں ، اور اپنے زعم میں بڑے خوش هوتے هیں کہ اب هم نے صراط مستقیم پالیا هے ، اب همارا
عمل صرف قرآن وحدیث پر هے ، انهی وساوس میں سے ایک وسوسہ کاذبہ یہ بهی هے کہ اشاعره
وماتریدیه گمراه هیں ، اب جاهل آدمی کو کچهہ پتہ نہیں کہ اشاعره وماتریدیه کون هیں
؟ ان کے کیا عقائد ونظریات هیں ؟ ان کی کیا تاریخ هے ؟ ان کا کون سا عقیده گمراه هے
؟
بس اس جاهل کے پاس دلیل وثبوت یہی هے کہ فلاں شیخ صاحب نے کہا
هے ،
کذب وجہالت کی اندهی تقلید کی جیتی جاگتی تصویرکسی نے دیکهنی
هو تو وه آج کل کے فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل عوام دیکهہ لے ، ان بے چاروں کی حالت
بہت قابل رحم هے ، کیونکہ ان کو قرآن وحدیث کے نام پر فرقہ جدید اهل حدیث میں داخل
کیا جاتا هے ، اور پهر درپرده چند جہلاء کی اندهی تقلید کرائی جاتی هے ، جن کوشیخ کے
لقب سے یاد کیا جاتا هے ، اور یہی وساوس ان کو یاد کروائے جاتے هیں ، آپ از راه امتحان
کسی عام اهل حدیث یا غیر مقلد سے پوچهہ لیں کہ فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل هونے کے
بعد کتنا قرآن سیکها ؟ کتنی سنتیں سیکهی ؟ کتنی احادیث یاد کیں ؟ کتنی مسنون دعائیں
یاد کیں ؟ کتنے آداب شرعیه سیکهہ لیئے ؟ جواب صفر هوگا
گذشتہ سطور میں اشاعره وماتریدیه کی تعریف وحقیقت وتاریخ وعقائد
کے حوالہ سے کچهہ تفصیل پیش کی گئ ، خوب یاد رکهیں کہ امت مسلمہ میں امام أبي الحسن
الأشعري اورامام أبي منصور الماتريدي کے مذهب کے ظہور کے بعد تمام کبار أهل العلم مفسرين
ومحدثين وفقهاء واصوليين ومتكلمين وأهل لغت ومؤرخين وقائدین ومصلحين وغيرهم أشاعره
یا ماتريديه هی کہلائے ، کیونکہ ان دو جلیل القدر اماموں نے عقائد صحابہ وتابعین وتبع
تابعین هی کو جمع کیا ، اسی طرح بعد میں آنے والے عوام وخواص مسلمین نے عقائد واصول
میں انهی دو اماموں کی طرف اپنی نسبت کی ، بطور مثال چند ائمہ اسلام کے اسماء گرامی
پیش خدمت هیں جو اشعری یا ماتریدی کہلائے
أهل التفسير ومفسرین وعلماء علوم القرآن
القرطبي = وابن العربي = والرازي = وابن عطية = المحلي = البيضاوي
= الثعالبي = أبو حيان = ابن الجزري = الزركشي = السيوطي = الآلوسي = الزرقاني = النسفي
= القاسمي وغيرهم كثير رحمهم الله
أهل الحديث ومحدثین وعلماء علوم الحدیث
الحاكم = البيهقي = الخطيب البغدادي = ابن عساكر = الخطابي
= أبو نعيم الأصبهاني = القاضي عياض =ابن الصلاح =المنذري =النووي =العز بن عبد السلام
=الهيثمي =المزي =ابن حجر =ابن المنير =ابن بطال اورشراح الصحيحين = اورشراح السنن
= العراقي وابنه =ابن جماعة =العيني =العلائي =ابن فورك =ابن الملقن =ابن دقيق العيد
=ابن الزملكاني =الزيلعي =السيوطي =ابن علان =السخاوي =المناوي =علي القاري =البيقوني
=اللكنوي =الزبيدي وغيرهم رحمهم الله
أهل الفقه وفقهاء وعلماء اصول الفقه
الحنفية :
ابن نجيم =الكاساني =السرخسي =الزيلعي =الحصكفي =الميرغناني
=الكمال بن الهمام =الشرنبلالي =ابن أمير الحاج =البزدوي =الخادمي =عبد العزيز البخاري
وابن عابدين =الطحطاوي وغيرهم كثير رحمهم الله
المالكية :
ابن رشد =القرافي =الشاطبي =ابن الحاجب =خليل =الدردير =الدسوقي
=زروق =اللقاني =الزرقاني =النفراوي =ابن جزي =العدوي =ابن الحاج =السنوسي =ابن عليش
وغيرهم كثير رحمهم الله
الشافعية :
الجويني وابنه =الرازي =الغزالي =الآمدي =الشيرازي =الاسفرائيني
=الباقلاني =المتولي =السمعاني =ابن الصلاح =النووي =الرافعي =العز بن عبد السلام
=ابن دقيق العيد =ابن الرفعة =الأذرعي =الإسنوي =السبكي وابنه =البيضاوي =الحصني =زكريا
الأنصاري =ابن حجر الهيتمي =الرملي =الشربيني =المحلي =ابن المقري =البجيرمي =البيجوري
=ابن القاسم =قلوبي =عميرة =الغزي =ابن النقيب =العطار =البناني =الدمياطي =آل الأهدل
وغيرهم كثير رحمهم الله
أهل التواريخ وسير وتراجم
القاضي عياض =المحب الطبري =ابن عساكر =الخطيب البغدادي =أبو
نعيم الأصبهاني =ابن حجر =المزي =السهيلي =الصالحي =السيوطي =ابن الأثير =ابن خلدون
=التلمساني =الصفدي =ابن خليكان وغيرهم كثير رحمهم الله
أهل اللغة وعلماء علوم اللغة
الجرجاني =الغزويني =ابن الأنباري =السيوطي =ابن مالك =ابن عقيل
=ابن هشام =ابن منظور =الفيروزآبادي =الزبيدي =ابن الحاجب =الأزهري =أبو حيان =ابن
الأثير =الجرجاني =الحموي =ابن فارس =الكفوي =ابن آجروم =الحطاب =الأهدل وغيرهم كثير.رحمهم
الله
یہ چند مشہورائمہ اسلام ومشاهیراسلاف امت کی اسماء ہیں ، ان
میں سے هرایک عالم وامام اپنی ذات میں ایک انجمن هے اور علم ومعرفت کا ایک خزانہ هے
، یہ سب ائمہ اسلام اور ان کے علاوه سب اشعری یا ماتریدی تهے ، اور اگرتمام علماء أشاعره
و ماتريديه کے صرف اسماء کوبهی جمع کیا جائے توبڑے بڑے دفترتیار هوجائیں
حاصل یہ کہ علماء حنفيه ماتريدي هیں ، علماء مالكية وشافعية
أشعري هیں ، اور
علماء حنابلة أثري هیں ،
اب سوال یہ هے کہ جن مشاهیر ائمہ کے اسماء هم نے ذکرکئے هیں
، اور جن کے نام ذکرنہیں کیئے وه بهی بہت زیاده هیں ، کیا یہ سب گمراه اور أهل السنة
والجماعة سے خارج تهے ؟؟ ( معاذالله ) امام محمد السفاريني الحنبلي ( صاحب العقيدة
السفارينية ) اپنی کتاب ( لوامع الأنوار ) میں فرماتے هیں کہ اهل سنت کی تین جماعتیں
هیں
1 = الأثرية ، ان کا امام أحمد
بن حنبل رحمہ الله هے
2 = الأشعرية ، ان کا امام أبوالحسن
الأشعري رحمہ الله هے
3 = الماتردية ، ان کا امام
أبو منصور الماتريدي رحمہ الله هے
۰
قال الإمام محمد السفاريني الحنبلي صاحب العقيدة السفارينية
: حيث قال في كتابه لوامع الأنوار شرح عقيدته (1/ 73 ) أهل السنة والجماعة ثلاث فرق
، الأثرية وإمامهم أحمد بن حنبل رحمہ الله
والأشعرية وإمامهم أبوالحسن الأشعري رحمہ الله ،
والماتردية وإمامهم أبو منصور الماتريدي رحمہ الله اهـ

ـ

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s