وسوسه = امام ابوحنیفہ ” عقیده اِرجاء ” رکهتے تهے

وسوسه = امام ابوحنیفہ ” عقیده اِرجاء ” رکهتے تهے
، اور شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنی کتاب ( غنية الطالبين ) میں تہترفرقوں کی تفصیل
میں مرجئہ فرقہ کا ذکربهی کیا ، اور مرجئہ فرقہ میں أصحاب أبو حنيفہ نعمان بن ثابت
نعمان کو بهی شمارکیا هے
جواب = فرقہ جديد نام نہاد اهل حدیث کے بعض متعصب لوگوں نے
( غنية الطالبين ) کی اس عبارت کو لے کر امام ابوحنیفہ اور احناف کے خلاف بہت شور مچایا
اور آج تک اس وسوسہ کو گردانتے چلے جارهے هیں ، انهی لوگوں میں پیش پیش کتاب
” حقیقت الفقہ ” کے مولف غیرمقلد عالم یوسف جے پوری بهی هیں ، لہذا اس نے
اپنی کتاب ” حقیقت الفقہ ” میں گمراه فرقوں کا عنوان قائم کرکے اس کے تحت
فرقہ کا نام ” الحنفیه ” اور پیشوا کا نام أبو حنيفة النعمان بن ثابت لکها
، اور ” حنفیہ ” کو دیگرفرق ضالہ کی طرح ایک گمراه فرقہ قرار دیا ، اوراسی
غرض سے شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب ( غنية الطالبين ) کی عبارت نقل کی
یوسف جے پوری کی امانت ودیانت
امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب اس وسوسه کا جواب دینے سے قبل یوسف
جے پوری کی امانت ودیانت ملاحظہ کریں ، اس نے اصل عبارت پیش کرنے بجائے صرف ترجمہ پر
اکتفاء کیا ، اور وه بهی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ذکرکیا ، (غنية الطالبين ) کی
اصل عبارت اس طرح هے
أما الحنفية فهم بعض أصحاب أبي حنيفة النعمان بن ثابت زعموا
ان الإيمان هوالمعرفة والإقرار بالله ورسوله وبما جاء من عنده جملة على ماذكره البرهوتي
فى كتاب الشجرة (
۲۹۱ ) . اب ( غنية الطالبين ) کی اس عبارت کی بنیاد ایک مجهول شخص
” برهوتي ” کی مجهول کتاب ” كتاب الشجرة ” پر هے ، لیکن یوسف جے
پوری نے اس عبارت کا ترجمہ کرتے وقت ” كتاب الشجرة ” کا نام اڑا دیا جو کہ
( غنية الطالبين ) کا مآخذ هے ، اب سوال یہ هے کہ
یہ ” برهوتي ” کون شخص هے ؟ اور اس کی ” كتاب
الشجرة ” کوئی مستند کتاب هے ؟ حقیقت میں یہ دونوں مجهول هیں ، لیکن یوسف جے پوری
چونکہ فرقہ جديد اهل حدیث سے تعلق رکهتے هیں ، جن کا یہ اصول هے کہ هم هربات صحیح وثابت
سند کے ساتھ قبول کرتے هیں ، ضعیف اور مجهول بات کا همارے نزدیک کوئی اعتبارنہیں هے
، لیکن افسوس امام ابوحنیفہ اور احناف کے خلاف جو بات جہاں سے جس کسی سے بهی مل جائے
، تو وه سرآنکهوں پر هے ، اس کے لیئے کسی دلیل ثبوت صحت سند غرض کسی چیزکی کوئی ضرورت
نہیں ،
فوا أسفا على ذلك الظلم والخيانة . اگر ” كتاب الشجرة
” اور اس کا مصنف ” برهوتي ” واقعی ایک معروف ومعتمد آدمی هے ، تو یوسف
جے پوری نے اصل ” كتاب الشجرة ” کی عبارت مع سند کیوں ذکرنہیں کی ؟ جب ایسا
نہیں کیا تو اهل عقل پرواضح هوگیا کہ یوسف جے پوری نے محض تعصب وعناد کی بنا پر جاهل
عوام کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی هے
دوسری اهم بات ( غنية الطالبين ) کی مذکوره بالا عبارت کو دیکهیں
اس میں
( بعض أصحاب أبي حنيفة ) کا
لفظ هے ، جس کا مطلب هے کہ کچھ حنفی اس عقیده کے حامل تهے ، لیکن یوسف جے پوری کی امانت
ودیانت کو داد دیں کہ اس نے ” بعض ” کا لفظ اڑا کر تمام احناف کواس میں شامل
کردیا ، اور اس کو امام ابوحنیفہ کا مذهب بنا دیا
یوسف جے پوری نے کہتا هے کہ
ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی مقتدا هیں فرقہ حنفیہ کے اکثر اهل
علم نے ان کو
مرجئہ فرقہ میں شمارکیا هے الخ (حاشیہ حقيقة الفقه ص ۲۷ ) جے پوری کی یہ بات کہ (اکثر
اهل علم نے ان کو ” مرجئہ فرقہ ” میں شمارکیا هے ) یہ محض دهوکہ اورکذب و
وسوسہ هے ، اس لیئے اگر اکثر اهل علم نے امام ابوحنیفہ کو مرجئہ کہا هے ، تو جے پوری
نے ان اکثر اهل علم کی فہرست اور ان کے نام ذکرکرنے کی تکلیف کیوں نہیں کی ؟؟ جو شخص
امام ابوحنیفہ سے اس درجہ بغض وعناد رکهتا هے کہ سب رطب ویابس غلط وجهوٹ بغیرجانچ پڑتال
کے اپنی کتاب میں درج کرتا هے ، تعجب هے کہ اس نے یہ توکہ دیا کہ اکثر اهل علم نے امام
ابوحنیفہ کو مرجئہ کہا هے ، لیکن اکثر اهل علم میں سے کسی ایک کا نام ذکرنے کی تکلیف
نہیں کی
حافظ ابن عبدالبر مالکی رحمہ الله کی شہادت
اپنی کتاب ( جامع بیان العلم وفضله لابن عبدالبر ص 431 ) میں
فرماتے هیں کہ بعض لوگوں نے امام ابوحنیفہ پر ” ارجاء ” کا الزام لگایا هے
، حالانکہ اهل علم میں توایسے لوگ کثرت سے موجود هیں جن کو مرجئه کہا گیا هے ، لیکن
جس طرح امام ابوحنیفہ کی امامت کی وجہ سے اس میں برا پہلو نمایاں کیا گیا هے ، دوسروں
کے بارے ایسا نہیں کیا گیا ، اس کے علاوه یہ بهی ایک حقیقت هے کہ بعض لوگ امام ابوحنیفہ
سے حسد وبغض رکهتے تهے ، اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے تهے ، جن سے امام ابوحنیفہ
کا دامن بالکل پاک تها ، اوران کے بارے نامناسب اوربے بنیاد باتیں گهڑی جاتی تهیں ،
حالانکہ علماء کی ایک بڑی جماعت نے امام ابوحنیفہ کی تعریف کی اور ان کی فضیلت کا اقرار
کیا هے
.
ارجاء کا معنی اور حقیقت
ارجاء کا لغت عرب میں معنی هے ” الأمل والخوف والتأخير
وإعطاء الرجاء والإمهال ” تاخیر اور مهلت دینا اور خوف اور امید
علامہ عبدالکریم شہرستانی اپنی کتاب (( المِلَل والنِحَل ، الفصل
الخامس)) میں فرماتے هیں کہ ارجاء کے دو معنی هیں
1 = تاخیرکرنا جیسا کہ قول باری
تعالی قالوا أرجه وأخاه ( انهوں نے کہا کہ موسی اور ان کے بهائی کو مہلت دے ) یعنی
ان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں تاخیرسے کام لینا چائیے اور ان کومہلت دینا چائیے
2 = دوسرا معنی هے إعطاء الرجاء
امید دلانا ( یعنی محض ایمان پرکلی نجات کی امید دلانا اور یہ کہنا کہ ایمان کے هوتے
هوئے گناه ومعاصی کچھ مضرنہیں هیں
3 = اوربعض کے نزدیک ارجاء یہ
بهی هے کہ کبیره گناه کے مرتکب کا فیصلہ قیامت پرچهوڑدیا جائے اور دنیا میں اس پر جنتی
یا جہنمی هونے کا حکم نہ لگایا جائے
4 = اور بعض کے نزدیک ارجاء
یہ هے کہ حضرت علی رضی الله عنہ کو پہلے خلیفہ کے بجائے چوتها خلیفہ قرار دیا جائے
ارجاء کے معنی ومفہوم میں چونکہ ” التأخير ” بهی شامل
هے ، اس لیئے جو حضرات ائمہ گناهگار کے بارے میں توقف اور خاموشی سے کام لیتے هیں ،
اور دنیا میں اس کے جنتی اور جہنمی هونے کا کوئی فیصلہ نہیں کرتے ، بلکہ اس کا معاملہ
آخرت پرچهوڑتے هیں ، کہ حق تعالی شانہ اس کے بارے میں جو چاهے فیصلہ کرے ، خواه اس
کو معاف کرے اور جنت میں داخل کردے ، یا سزا بهگتنے کے لیئےجہنم میں ڈال دے ، یہ سب
مرجئه هیں ، اور اسی معنی کے اعتبار سے امام اعظم اور دیگر ائمہ و محدثین کو
” مرجئه ” کہا گیا
علامہ ملا علی قاری نے ( شرح فقہ اکبر ) میں یہی بات لکهی هے
ثم اعلم أن القُونَوِيَّ ذَكَرَ أنَّ أبا حنيفة كان يُسمَّى مُرجِئاً لتأخيره أمرَ
صاحبِ الكبيرة إلى مشيئة الله والإرجاء التأخير. انتهى . جاننا چائیے کہ علامہ قونوی
نے ذکرکیا هے کہ امام ابوحنیفہ کو بهی مرجئه کہا جاتا تها کیونکہ امام ابوحنیفہ مرتکب
کبیره کا معاملہ الله تعالی کی مشیت پر موقوف رکهتے تهے اور ” ارجاء ” کے
معنی ومفہوم موخرکرنے کے هیں . ( منح الروض الأزهر في شرح الفقه الأكبر ص67) . اب سوال
یہ هے کہ کیا امام ابوحنیفہ کا یہ عقیده قرآن وحدیث کی تصریحات وتعلیمات کےخلاف هے
؟؟ یا صریح نصوص آیات واحادیث سے امام ابوحنیفہ کے اس عقیده کی تائید وتصدیق هوتی هے
، اور تمام اهل سنت کا بهی یہی مذهب هے
مرجئه فرقه كا عقيده
علامہ ملا علی قاری ( شرح فقہ الاکبر ص 104 ) پرفرماتے هیں کہ
پهر مرجئه مذمومه بدعتی فرقه قدریه سے جدا ایک فرقه هے ، جن
کا عقیده هے کہ ایمان کے آنے کے بعد انسان کے لیئے کوئی گناه مضرنہیں هے ، جیسا کہ
کفرکے بعد کوئی نیکی مفید نہیں هے ، اور ان ( مرجئه ) کا نظریہ هے کہ مسلمان جیسا بهی
هوکسی کبیره گناه پر اس کوکوئی عذاب نہیں دیا جائے گا ، پس اس ارجاء ( یعنی مرجئه اهل
بدعت کا ارجاء ) اور اُس ارجاء ( یعنی امام اعظم اوردیگرائمہ کا ارجاء ) میں کیا نسبت
؟؟؟
یوسف جے پوری لکهتا هے کہ
چنانچہ ایمان کی تعریف اور اس کی کمی وزیادتی کے بارے میں جوعقیده
مرجئه کا هے انهوں ( امام ابوحنیفہ ) نے بهی بعینہ وهی اپناعقیده اپنی تصنیف فقہ اکبرمیں
درج فرمایا هے. ( حاشيه حقيقة الفقه ص 72 ). یوسف جے پوری کی یہ بات بالکل غلط اور
جهوٹ هے
فقه أكبركى عبارت ملاحظہ کریں
ولانقول ان المؤمن لايضره الذنوب ولانقول انه لايدخل النارفيها
ولانقول انه يخلد فيها وان كان فاسقا بعد ان يخرج من الدنيا مؤمنا ولا نقول حسناتنا
مقبولة وسيئاتنا مغفورة كقول المرجئة ( شرح كتاب الفقه الأكبر ص 108) . اور هم یہ نہیں
کہتے کہ مومن کے لیئے گناه مضرنہیں ، اور نہ هم اس کے قائل هیں کہ مومن جہنم میں بالکل
داخل نہیں هوگا ، اور نہ هم یہ کہتے هیں کہ وه همیشہ جہنم میں رهے گا ، اگرچہ فاسق
هو جب کہ وه دنیا سے ایمان کی حالت میں نکلا ، اور نہ هم یہ کہتے هیں کہ هماری تمام
نیکیاں مقبول هیں ، اور تمام گناه معاف هیں جیسا مرجئه کا عقیده هے
.
اب یوسف جے پوری کی بات (( جوعقیده مرجئه کا هے انهوں ( امام
ابوحنیفہ ) نے بهی بعینہ وهی اپناعقیده اپنی تصنیف فقہ اکبرمیں درج فرمایا هے )) کو
دیکهیں اور ” شرح فقہ اکبر ” کی مذکوره بالاعبارت پڑهیں ، اس میں مرجئه کا
رد ومخالفت هے یا موافقت ؟؟
یوسف جے پوری لکهتا هے کہ علامہ شہرستانی نے ( کتاب الملل والنحل
) میں بهی رجال المرجئہ میں حماد بن ابی سلیمان اور ابوحنیفہ اورابویوسف اور محمد بن
حسن وغیرهم کو درج کیا هے ، اسی طرح غسان ( جوفرقہ غسانیہ کا پیشوا هے ) بهی امام صاحب
کو مرجئہ میں شمارکرتا هے.( حاشيه حقيقة الفقه ص 72) یوسف جے پوری کی یہ بات بهی دهوکہ
وخیانت پرمبنی هے ، یا پهر ( کتاب الملل والنحل ) کی عبارت پڑهنے میں ان کو غلط فہمی
هوئی هے
علامہ شہرستانی سے سنیے
ومن العجيب ان غسان كان يحكى عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى مثل
مذهبه ويعده من المرجئة ولعله كذب كذالك عليه ولعمرى كان يقال لأبى حنيفة وأصحابه مرجئة
السنة ( ألملل والنحل، الفصل الخامس الغسانية ) . تعجب کی بات هے کہ غسان ( جوفرقہ
غسانیہ کا پیشوا هے ) بهی اپنے مذهب کو امام ابوحنیفہ کی طرح ظاهر کرتا اورشمارکرتا
تها ، اور امام ابوحنیفہ کو بهی مرجئه میں شمارکرتا تها غالبا یہ جهوٹ هے ، مجهے زندگی
عطا کرنے والے قسم کہ ابوحنیفہ اور اصحاب کو تو ” مرجئة السنة ” کہا جاتا
تها
۰
اب آپ یوسف جے پوری کی عبارت پڑهیں اور علامہ شہرستانی کی اصل
عبارت اور ترجمہ دیکھ لیں ، یہ نام نہاد اهل حدیث امام ابوحنیفہ پر کس طرح جهوٹ وخیانت
ودهوکہ وفریب کے ساتھ طعن وتشنیع کرتے هیں
حاصل کلام
غنية الطالبين میں جو کچھ لکها هے اس کی حقیقت بهی واضح هوگئ
، اور جو کچھ هاتھ کی صفائی یوسف جے پوری نے دکهائی وه بهی آپ نے ملاحظہ کرلی ،
ایک دوسری اهم بات بهی ملاحظہ کریں وه یہ کہ ( غنية الطالبين
) میں شیخ عبدالقادر جیلانی نے کئ جگہ امام ابوحنیفہ کے اقوال بهی نقل کیئے اور ان
کو امام کے لقب سے یاد کیا ، مثلا ایک مقام پر شیخ عبدالقادر جیلانی نے تارک صلوة کا
حکم بیان کرتے هوئے فرمایا کہ (وقال الإمام أبوحيفة لايقتل) امام ابوحنیفہ نے فرمایا
کہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا . اب اگر شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک امام ابوحنیفہ
” مرجئہ مبتدعہ ضالہ ” میں سے هوتے توپهر ان کو ” الإمام ” کے
لقب سے کیوں ذکر کرتے هیں ؟؟؟ اور مسائل شرعیه میں امام ابوحنیفہ کے اقوال کیوں ذکرکرتے
هیں ؟؟؟
ميزان الاعتدال اور تهذيب الكمال اور تهذيب التهذيب اور تقريب
التهذيب وغیره رجال کی کتابوں میں ایسے بہت سے رواة کے حق میں ” ارجاء” کا
طعن والزام لگایا گیا ، مثلا اس طرح کے الفاظ استعمال کیئے گئے ” رُمِيَ بالإرجاء،
كان مرجئاً، ” وغیره
امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ” تدریبُ الراوی
” میں بخاری ومسلم کے ان روایوں کے اسماء کی پوری فہرست پیش کی هے جن کو
” مرجئه ” کہا گیا
۰
امام ذهبي رحمه الله فرماتے هیں قلتُ الإرجاءُ مذهبٌ لعدةٍ من
جِلَّة العلماء ولا ينبغي التحاملُ على قائله. ( الميزان ج3ص163 ) . میں ( امام ذهبی
) کہتا هوں کہ ” ارجاء ” تو بڑے بڑے علماء کی ایک جماعت کا مذهب هے اور اس
مذهب کے قائل پر کوئ مواخذه نہیں کرنا چائیے
.
خلاصہ کلام یہ هے کہ ایک ” ارجاء ” فرقه مبتدعه ضاله
مرجئه کا هے اور ایک ” ارجاء ” ائمہ اهل سنت کا قول هے ، جس کی تفصیل گذشتہ
سطور میں گذرگئ هے
فرقہ اهل حدیث کے مستند عالم مولانا ابراهیم میر سیالکوٹی کی
شہادت
فرماتے هیں کہ اس موقع پراس شبہ کاحل نہایت ضروری هے کہ بعض
مصنفین نے سیدنا امام ابوحنیفہ کوبهی رجال مرجئه میں شمارکیا هے ، حالانکہ آپ اهل سنت
کے بزرگ امام هیں ، اورآپ کی زندگی اعلی تقوی اورتورع پرگذری جس سے کسی کوبهی انکارنہیں
، بے شک بعض مصنفین نے ( الله ان پر رحم کرے ) امام ابوحنیفہ اورآپ کے شاگردوں امام
ابویوسف ، امام محمد ، امام زفر ، اور امام حسن بن زیاد کو رجال مرجئه میں شمارکیا
هے ، جس کی حقیقت کو نہ سمجھ کر اور حضرت امام صاحب ممدوح کی طرز زندگی پرنظر نہ رکهتے
هوئے بعض لوگوں نے اسے خوب اچهالا هے ، لیکن حقیقت رس علماء نے اس کا جواب کئ طریق
پردیا هے ٠( تاريخ أهل حديث ، ارجاء اور امام ابوحنيفه ، ص 77 ) اسی کتاب میں ( ص
93) پرلکهتے هیں کہ بعض لوگوں کو حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمہ الله کے حوالے سے
بهی ٹهوکرلگی هے ، آپ نے حضرت امام صاحب رحمہ الله علیہ کو مرجئوں میں شمار کیا هے
، سواس کا جواب هم اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے شیخ الشیخ حضرت سید نواب صاحب مرحوم
کے حوالے سے دیتے هیں. اس کے بعد مولانا ابراهیم میر سیالکوٹی نے بانی فرقہ اهل حدیث
نواب صدیق حسن صاحب کا کلام ان کی کتاب ( دلیل الطالب ) سے ذکر کیا ، اور پهر اس ساری
بحث کا خلاصہ بیان کرتے هوئے لکها کہ
حاصل کلام یہ کہ لوگوں کے لکهنے سے آپ کس کس کو ائمہ اهل سنت
کی
فہرست سے خارج کریں گے ؟؟؟

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s