وسوسه = فقہ حنفی اور حدیث میں ٹکراو هے اب عمل کس پرکرنا چائیے ؟ حدیث محمد رسول الله کی هے ، اور فقہ اماموں کی بنائی هوئی هے

وسوسه = فقہ حنفی اور حدیث میں ٹکراو هے اب عمل کس پرکرنا چائیے
؟ حدیث محمد رسول الله کی هے ، اور فقہ اماموں کی بنائی هوئی هے
جواب = یہ بہت پرانا وسوسہ اور جهوٹ هے ، جس کو فرقہ جدید اهل
حدیث کے جہلاء نقل در نقل چلے آرهے هیں ، اور اس وسوسہ کے ذریعہ عوام کو بآسانی بے
راه کرلیتے هیں ، اس وسوسہ کے استعمال کا طریقہ یہ هوتا هے کہ کسی مسئلہ میں اگر مختلف
احادیث وارد هوئی هوں ، اور فقہ حنفی کا کوئی مسئلہ بظاهر کسی حدیث کے خلاف نظرآتا
هو ، تو یہ حضرات اس کو بڑے زور وشور سے بار بار بیان کرتے هیں ، لمبے چوڑے بیانات
وتقریریں کرتے هیں ، اور اس پر کتابچے اور رسائل لکهتے هیں ، اور فقہ حنفی کو حدیث
کے مخالف ثابت کرنے کی ناکام ونامراد کوشش کرتے هیں ، اور اس طرح ان وساوس کی ترویج
وتشہیر کی کوشش کرتے هیں ، حالانکہ اس فقہی مسئلہ کے موافق حدیث ودلیل بهی هوتی هے
، لیکن یہ اس کوچهپا دیتے هیں ، اس کا بالکل ذکرهی نہیں کرتے ، اور اگرکوئی اس فقہی
مسئلہ کے موافق حدیث ودلیل ذکر کربهی دے تو اس پر ” ضعیف یا موضوع ” کا لیبل
لگا دیتے هیں ، اب ایک عام آدمی کو فقہی مسائل اوراحادیث کے علوم کی کیا خبرهے ، خود
فرقہ جدید اهل حدیث کے ان نام نہاد شیوخ کو کچھ پتہ نہیں لیکن بس ” اندهوں میں
کانا راجہ ” والی بات هے ، لہذا اگر یہ وسوسہ وه قبول کرلے تو پهر وه فقہ حنفی
کی مخالفت پرکمربستہ هوجاتا هے ، بلکہ اپنی گذشتہ زندگی پر توبہ واستغفار بهی کرتا
هے ، اور اپنے زعم میں بہت خوش هوتا هے کہ الحمد لله اب میں توحید وسنت کی دولت سے
مالا مال هوگیا هوں ، اب مجهے صراط مستقیم مل گیا هے ، حالانکہ اس جاهل کو کیا پتہ
کہ جس وسوسہ کی بنا پر میں ” فرقہ اهل حدیث یا غیرمقلدیت ” قبول کر رها هوں
، یہ تو انگریز کی سیاسی ضرورت تهی ، جس کو چند خوش نما نعروں کے ساتھ هندوستان میں
وجود میں لایا گیا ، جیسا کہ قادیانیت ، پرویزیت ، نیچریت ، خاکساریت ، بریلویت ، سب
استعمار اور اعداء اسلام کی حاجت وضرورت کا دوسرا نام هے ، هر فرقہ کے بانیان کو علماء
حق علماء احناف علماء دیوبند کو بدنام کرنے اوران کی تحریک کو کمزورکرنے کے لیئے مختلف
کام ومحاذ سپرد کیئے گئے
فرق ضالہ کی بنیاد
فرق ضالہ کی بنیاد چند غیر ضروری ابحاث ہوتی ہیں ، اور ان فرقوں
کے بانیان کو خوب معلوم هوتا هے ، کہ ان کی یہ جماعت یہ کس شعبده گر کی صنعت وکاریگری
کی شاهکار هے ، مگر بعد میں آنے والے جاهل اس کو مذهب ومسلک کا درجہ دے دیتے هیں ،
اور اس کی حمایت وطرفداری پر مرنے مارنے پرتیارهوجاتے هیں ، جیسا کہ ” رافضیت
وشیعیت ” کو دیکھ لیجیئے ، جو ابن سبا یہودی کی اسلام کے خلاف جاری کرده ایک تحریک
تهی ، لیکن اس کا طریقہ کار یہ تها ، کہ ساده لوح عوام کے سامنے پہلے چند خوشنما نعرے
رکهے گئے ، جیسے ( عقیده امامت ، حق خلافت حضرت علی کے لیئے ، حُب اهل بیت ، ائمہ اهل
بیت کی معصومیت وغیره ) لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ( شیعیت ورافضیت ) ایک مستقل مذهب
کی صورت میں سامنے آتا رها ، اور جاهل لوگوں نے پوری دیانت داری کے اس مذهب کی تبلیغ
وعمل کا سلسلہ شروع کردیا ، اور یہ سلسلہ آج تک قائم هے ، بالکل یہی حال ” جدید
فرقہ اهل حدیث یا غیرمقلدیت ” کا بهی هے ، جواستعماری قوتوں کا لگایا هوا ایک
پودا هے ، جسے هندوستان میں چند لوگوں نے پانی دے کر پروان چڑهایا ، لیکن ساده لوح
ناواقف عوام نے اس کو ایک شجره طوبی سمجھ کر اس کے سایہ کو جنت کا سایہ سمجھ لیا ،
الله تعالی عوام کو اس فتنہ کی حقیقت سمجهنے کی توفیق دے
فقہ حنفی کے خلاف مذکوره وسوسہ استعمال کرنے کا طریقہ
یعنی یہ وسوسہ کہ فقہ حنفی اور حدیث میں ٹکراو هے ، اس وسوسہ
کو عوام کے دماغ میں ڈالنے کے لیئے طریقہ یہ اختیار کرتے هیں ، کہ مثلا فقہ حنفی کی
کتب ” شامی ، عالمگیری ، درمختار ، هدایہ ، وغیره سے کوئی مسئلہ لیں گے ، بعض
دفعہ مسئلہ پورا لیتے هیں ، اور بعض دفعہ اس میں بهی دجل کرتے هیں ، تو پهر بظاهر اس
فقہی مسئلہ کے معارض ومخالف حدیث پیش کرتے هیں ، اور پهر عوام سے کہتے هیں کہ اب تمہاری
مرضی هے کہ فقہ حنفی کے پیچهے جاو یا حدیث رسول کی پیروی کرو ، اب ایک عام آدمی کو
علم حدیث وعلم فقہ اور اس کی ساری تفصیلات کا کیا پتہ ” شامی ، عالمگیری ، درمختار
، هدایہ ، وغیره کتب اس نے کہاں دیکهنے هیں ، اور اگردیکھ بهی لے تو اس کو سمجھ بهی
نہ آئے ، تواس اندازسے اس وسوسہ کو عوام کے دلوں میں ڈالا جاتا هے ، اوراس طرز سے عوام
کو اپنی اندهی تقلید پرمجبور کرتے هیں
پاک وهند میں فقہ حنفی کی مخالفت وعداوت میں لکهی گئ پہلی کتاب
پاک وهند میں فقہ حنفی کے خلاف پہلی کتاب ( استقصاء الافحام
) لکهی گئ ، اس کتاب کا مولف حامد حسین کنتوری ایک غالی قسم کا شیعہ تها ، اور بعد
میں فقہ حنفی کے خلاف جو بهی کتابیں لکهی گئ سب اسی کتاب کا چربہ هیں ، اور حتی کہ
یہی بات فرقہ اهل حدیث کے سرکرده عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے بهی کہی هے ، کہ امام
الائمہ ابوحنیفہ علیہ الرحمه پرجواعتراضات ومطاعن اخبار اهل الذکر ( فرقہ اهل حدیث
اور غیرمقلدین کا اخبار ) میں مشتہرکیئے گئے هیں ، یہ سب کے سب هذیانات بلا استثناء
اکاذیب وبہتانات هیں ، جن کا مآخذ زمانہ حال کے معترضین کے لیئے حامد حسین شیعی لکهنوی
کی کتاب ( استقصاء الافحام ) کے سوا اور کوئی کتاب نہیں هے ، اور اس کتاب میں امام
ابوحنیفہ علیہ الرحمه کے علاوه کسی سُنی امام ، بخاری ، مالک وغیره کو نہیں چهوڑا گیا
، ایک ایک کا نام لے کر کئ کئ ورقوں بلکہ جزوں کو سیاه کرڈالا . ( تفصیل دیکهیئے فقیرمحمد
جہلمی کی کتاب ، السیف الصارم ) . اس کے بعد دوسری کتاب (( ظفرُالمبین فی رد مُغالطات
المُقلدین )) لکهی گئ ، اس کے مولف کا نام هری چند بن دیوان چند تها ، جو بعد میں مسلمان
هوکر غلام محی الدین کے نام سے مشہور هوا ، اس آدمی کی علمی استعداد کے متعلق ( فرقہ
اهل حدیث ) کے ترجمان مولوی محمد حسین بٹالوی فرماتے هیں
بٹالوی صاحب نے پہلے مولوی محمد احسن امروهی قادیانی سابق غیرمقلد
پر رد کرتے هیں پهر صاحب ( ظفرُالمبین ) کے بارے فرمایا کہ وه بے چاره میزان ، منشعب
( علم صرف چهوٹے رسالے هیں ) بهی پڑهے نہ تهے ، اور ماضی مضارع کے معنی نہ جانتے تهے
( دیکهیئے مزید تفصیل ، اشاعت السنہ ، جلد 14 شماره 12
)
ظفرُالمبین کے بعد فقہ حنفی کے خلاف کتاب ( حقیقت الفقه ) لکهی
گئی ، اس کتاب کا مولف محمد یوسف جے پوری هے ، اس کتاب میں جے پوری نے دجل وتلبیس وجهوٹ
وخیانت ودهوکہ وفریب کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے هیں ،
اس کے بعد ( شمع محمدی ، درایت محمدی ، سبیل الرسول وغیره )
کتابیں لکهی گئ اور یہ سلسلہ آج تک جاری هے ، اور اب تو چونکہ میڈیا کی ترقی کا دور
هے تو یہ لوگ کذب وفریب اور وساوس پهیلانے میں تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر رهے هیں
، لیکن جهوٹ دهوکہ فریب وغیره مذموم ذرائع کے لیئے من جانب الله کوئی ترقی وثبات نہیں
ملا کرتی ، زیاده سے زیاده چند جاهل عوام کو اس کے ذریعہ سے زیرکرلیا جاتا هے ،
حاصل کلام یہ هے کہ الحمد لله فقہ حنفی کا کوئی مُفتی بہ قول
اور معمول بہا مسئلہ قرآن وحدیث کے خلاف نہیں هے
إمام أعظم أبوحنيفہ رحمہ الله کا سنہری اصول
إني آخذ بكتاب الله إذا وجدته فما لم أجده فيه أخذت بسنة رسول
الله صلى الله عليه وسلم والآثار الصحاح عنه التي فشت في أيدي الثقات فإذا لم أجد في
كتاب الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول أصحابه آخذ بقول من شئت ثم
لا أخرج عن قولهم إلى قول غيرهم فإذا انتهى الأمر إلى إبراهيم والشعبي وابن المسيب
وعدّد رجالاً فلي أن أجتهد كما اجتهدوا
.
فرمایا میں سب سے پہلے کتاب الله سے( مسئلہ وحکم ) لیتا هوں
، اگرکتاب الله میں نہ ملے ، تو پهر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث صحیحہ
کی طرف رجوع کرتا هوں ، اور اگر كتاب الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم میں بهی
نہ ملے ، تو پهر میں اقوال صحابہ کرام کی طرف رجوع کرتا هوں ، اور میں صحابہ کرام کے
اقوال سے باهر نہیں نکلتا ، اور جب معاملہ إبراهيم اور شعبي اورحسن اورابن سيرين اورسعيد
بن المسيب (وغیرہم تابعین عظام ) تک پہنچتا ہے ، تو پهر میں بهی اجتهاد کرتا هوں جیسا
کہ انهوں نے اجتهاد کیا
.
1 = امام اعظم کے نزدیک قرآن
مجید فقہی مسائل کا پہلا مصدر هے
2 = پهردوسرا مصدر سنة رسول
الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث صحیحہ هیں ، حتی کہ امام اعظم دیگرائمہ میں واحد
امام هیں ، جو ضعیف حدیث کو بهی قیاس شرعی پرمقدم کرتے هیں ، جب کہ دیگرائمہ کا یہ
اصول نہیں هے
3 = تیسرا مصدرامام اعظم کے
نزدیک صحابہ کرام اقوال وفتاوی هیں
4 = اس کے بعد جب تابعین تک
معاملہ پہنچتا هے ، تو امام اعظم اجتهاد کرتے هیں ، کیونکہ امام اعظم خود بهی تابعی
اور مجتهد بلکہ امام المجتهدین هیں
سبحان الله یہ إمام اعظم أبي حنيفہ رحمہ الله کے مذهب کا وه
عظیم الشان اصول وبنیاد ہے ، جس کے اوپر فقہ حنفی قائم هے ، اس عظیم اصول کو بغور بار
بار پڑهیں ، سوائے جاهل کوڑمغز اور معاند متعصب کے اور کون هے جو اس عظیم اصول پر قائم
شده مذهب حنفی کی عمارت کو قرآن وسنت کے خلاف کہے گا ؟
جب کہ فرقہ اهل حدیث کو دیکهیں ، تو ان کا اصول یہ هے صحابہ
کرام کا فہم اور اقوال وفتاوی واجماعات کوئی حجت ودلیل نہیں هے ، لیکن اس کے باجود
بهی وسوسہ یہ پهیلاتے هیں کہ فقہ حنفی حدیث کے مخالف هے ، اس وسوسہ کے تحت بات طویل
هوگئ ، الله تعالی سب مسلمانوں کو صحیح سمجھ دے ، اور اهل سنت والجماعت علماء کی راہنمائی
میں قرآن وحدیث پرعمل کی توفیق دے

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s