وسوسه = مذاهب اربعہ بعد کی پیداوار هیں ، اور هم اهل حدیث چوده سوسال سے چلے آرهے هیں

وسوسه = مذاهب اربعہ بعد کی پیداوار هیں ، اور هم اهل حدیث چوده
سوسال سے چلے آرهے هیں ، لہذا حق جماعت اهل حدیث هے ، مسلمانوں کو حنفی شافعی مالکی
حنبلی وغیره کے بجائے اهل حدیث جماعت میں شامل هونا چائیے
جواب = یہ وسوسہ مختلف اندازسے عوام کے ذهنوں میں ڈالا جاتا
هے ، اور ائمہ اسلام وعلماء امت کی کتب میں جہاں کہیں بهی لفظ ” اهل حدیث
” ان کونظرآتا هے ، تواس لقب کواپنے اوپرچسپاں کردیتے هیں ، اورپهرعوام سے کہتے
هیں دیکهو فلاں امام نے لکها هے فلاں کتاب میں لکها هے کہ ” اهل حدیث ” اهل
حق هیں ، اور ” اهل حدیث ” أهل السنة والجماعة هیں ، اور ” اهل حدیث
” هی فرقة ناجيه هے وغیره
اکثرعوام اس وسوسہ کو بوجہ جہالت کے قبول کرلیتے هیں ، اور فرقہ
جدید نام نہاد اهل حدیث میں شامل هوجاتے هیں ، اورپهران کو یہی وساوس سنائے اورپڑهائے
جاتے هیں ، خوب یاد رکهیں کہ هندوستان میں پیدا شده ” فرقہ جدید نام نہاد اهل
حدیث ” کا امت مسلمہ کے حقیقی ” أهل الحديث وأصحاب الحديث ” سے ذره
برابرتعلق ونسبت بهی نہیں هے ، یہ ان کا محض خیال و وسوسہ ودهوكہ هے اورکچهہ نہیں هے
چہ نسبت خاكـــــــــ راباعـــــالم پاكـــــــــ
عوام الناس کو کتب اسلاف سے لفظ ” أهل الحديث ” دکها
کرمطمئن کرلیا جاتا هے ، اوران کوبڑے زور وشور سے باورکرایا جاتا هے کہ ان ائمہ اسلام
کی کتب میں موجود اس نام ولقب سے مراد خاص هماری جماعت ” اهل حدیث ” هے ،
اوراس جماعت میں شامل لوگ مراد هیں ، ان کا یہ دعوی ایسا هی هے کہ اگرکسی کے بدن میں
صَفرَاء کا غلبہ هوجائے ، تواس کوهرچیزاسی رنگ میں نظرآتی هے ، جب کہ حقیقت اس کے خلاف
هوتی هے
أهل الحديث وأصحاب الحديث سے مراد کون ہیں ؟؟
أهل الحديث اورأصحاب الحديث سے مراد مُحدثین کرام کا طبقہ هے
، اس سے مرادوه لوگ هیں جن کوالله تعالی نے ” علم ُالحدیث ” کی عظیم دولت
سے مالامال کیا ، اورجن کی ساری زندگی حدیث پڑهنے پڑهانے میں گذری ، جنهوں نے اپنی
ساری عمر حدیث کی سماعت وقراءت وکتابت وروایت ودرایت حفظ ومعرفت میں گذاری ، جنهوں
نے حديث وآثار کوجمع کیا ، اورحدیث کی تحصیل کے لیئے مشرق ومغرب بحروبرکے اسفار بعیده
کواختیارکیا ، اورایک ایک حدیث کی سماعت کے لیئے کہاں سے کہاں پہنچے ، وغیره ذالک
کسی چیز کے ساتھ خاص اور أخص لوگوں کو (أهل الشيء) کہتے هیں
، اسی لیئے لغت عرب میں (أهل الرجل) آدمی کے ساتھ سب سے زیاده خاص اورقریب ترین لوگوں
کو کہا جاتا هے ، اسی طرح ” أهل الحديث ” بهی ان لوگوں کو کہا جاتا هے جو
حدیث اورعلوم حدیث کےساتھ هراعتبار سے سب سے زیاده خاص تعلق رکهتے هوں ، جوحدیث اورعلوم
حدیث میں هراعتبار سے کامل درجہ رکهتے هوں
امت مسلمہ میں أهل الحديث اورأصحاب الحديث کسی خاص فرقہ کا لقب
نہیں رها
امت مسلمہ کے محدثین کرام کے احوال و واقعات وسیرتوں پرمستقل
کتب موجود هیں ، لہذا یہ لقب امت میں کسی خاص فرقہ کے لیئے نہیں تها ، بلکہ امت میں
ایک علمی طبقہ کا نام هے ، اور” علم ُالحدیث ” کے حامل افراد واشخاص کو یہ
عظیم لقب ملا ، عام هے کہ وه حنفی هو یا شافعی ، مالکی ، حنبلی وغیره هو ، عام هے کہ
عرب سے هو یا عجم سے ، اسی طرح ” أهلُ التفسير ” کا لقب کسی متعین فرقہ کے
لیئے خاص نہیں هے ، بلکہ مُفسرین کرام کے لیئے هے ، جوعلوم القرآن کی دولت سے مالامال
هوں ، ایسا نہیں هے کہ هرکس وناکس جاهل ومجهول کو ” أهلُ التفسير ” کے نام
سے پکارا جائے ، ایسا هی ” أهلُ الفقه ” کا لقب فقهاء امت کے لیئے خاص هے
، ایسا هی ” أهلُ التاریخ ” مورخین کے لیئے ” أهلُ اللغة ” أهلُ
الأدب ” أهلُ الكلام ” وغیره القابات خاص قسم کے افراد کے استعمال هوئے ،
جن کواس علم وفن میں کامل مہارت وتبحرحاصل تها ، اور یہ بات اهل علم کے نزدیک اتنی
واضح و روشن هے ، کہ اس پر مزید دلائل دینا ایک بے فائده عمل هے ، اورچڑتے سورج کے
وجود پردلیل طلب کرنے کے مترادف هے
شيخ الإسلام ابن تیمیہ اور شيخ الإسلام نوَوِي رحمهما الله کے
نزدیک أهل الحديث کی تعریف
شيخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ الله فرماتے هیں کہ
هماری مراد ” أهل الحديث ” سے وه لوگ نہیں هیں ، جو
حدیث کی سماع یا کتابت یا روایت سے غافل هیں ، بلکہ هماری مراد ” أهل الحديث
” سے وه لوگ هیں ، جو ظاهری وباطنی طور پر حدیث کے حفظ ومعرفت وفہم میں اور ظاهری
وباطنی طورپر اس کی اتباع وپیروی میں اعلی درجہ رکهتے هوں
قال شيخ الإسلام رحمه الله : ونحن لا نعني بأهل الحديث المقتصرين
على سماعه أو كتابته أو روايته بل نعني بهم: كل من كان أحق بحفظه ومعرفته وفهمه ظاهراً
وباطناً واتباعه باطناً وظاهراً . (مجموع الفتاوى4/95 ) . دوسرے مقام پر شيخ الإسلام
ابن تیمیہ رحمہ الله فرماتے هیں ، وأهل الحديث هم السلف من القرون الثلاثة ومن سلك
سبيلهم من الخلف . (مجموع الفتاوى6/355 ). أهل الحديث سے مراد قرون ثلاثه ( صحابہ ،
تابعین ، تبع تابعین ) کے سلف هیں ، اور وه جو بعد میں آنے والے ان کے راستے اور طریقہ
پرچلیں
.
امام نووی رحمه الله فرماتے هیں کہ ” أهل الحديث
” کسی ایک جماعت وگروپ کا نام نہیں هے ، جواس نام سے پہچانی جائے بلکہ ”
أهل الحديث ” ساری دنیا میں متفرق هیں ، بعض ان میں سے بہادر مجاهد هیں ، بعض
ان میں سے فقهاء هیں ، بعض ان میں سے محدثین هیں ، بعض ان میں سے زُهَّاد (عابد وصوفی
) هیں ، بعض ان میں سے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے هیں ، بعض ان میں سے
دیگر أنواع خیر (وصلاح ) والے بهی هیں ، یہ ضروری نہیں هے کہ یہ ” أهل الحديث
” ایک جگہ جمع هوں ، بلکہ أقطار الأرض یعنی زمین کے کناروں میں متفرق هوتے هیں
.
وأهل الحديث ليسوا حزباً واحداً يعرف بهذا الاسم بل هم متفرقون
في أقطار المعمورة منهم شجعان مقاتلون ومنهم فقهاء ومنهم محدثون ومنهم زهاد وآمرون
بالمعروف وناهون عن المنكر ومنهم أهل أنواع أخرى من الخير ولا يلزم أن يكونوا مجتمعين
بل قد يكونون متفرقين في أقطار الأرض. (شرح مسلم للنووي 13/67
) .
شيخ الإسلام اور امام نووی کے نزدیک ” أهل الحديث
” کی تعریف آپ نے ملاحظہ کی ، اب فیصلہ آپ کریں کہ فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث
بهی ان لوگوں میں داخل هیں ؟؟ حاشا وکلا
شيخ الإسلام رحمه الله نے تو قرون ثلاثة ( صحابہ ، تابعین ،
تبع تابعین ) کے سلف کو ” أهل الحديث ” قرار دیا ، جب کہ فرقہ جدید نام نہاد
اهل حدیث کا طرز ونظریہ صحابہ کے بارےآپ کومعلوم هے یعنی ان کے نزدیک ( صحابی کا قول
وفعل وفہم ) حُجت ودلیل نہیں هے ، خلاصہ یہ کہ ” فرقہ جدید نام نہاد اهل حدیث
” کا تعلق ونسبت حقیقی ” أهل الحديث وأصحاب الحديث ” یعنی مُحدثین کرام
سے ذره برابربهی نہیں هے ،اور یہ بهی واضح هوگیا کہ یہ نام ولقب امت میں ایک علمی طبقہ
کے لیئے خاص هے ، جس طرح هرجاهل مجهول کو ” أهلُ التفسير ” أهلُ الفقه
“أهل العلم” أهل القرآن ” کا لقب نہیں دیا جاسکتا ، ایسا هی ”
أهل الحدیث ” کا لقب بهی هرکس وناکس کے لیئے استعمال نہیں هوسکتا ، یہ اوربات
هے ایک فرقہ جدید نے هندوستان میں انگریزی عهد میں اپنے لیئے ” اهل حدیث
” کا نام سرکاری کاغذات میں الاٹ کروایا ، تواس وجہ سے یہ فرقہ جدید اس نام سے
لوگوں میں مشہورهو گیا ، لیکن اهل عقل واصحاب علم خوب جانتے هیں کہ صرف نام رکهنے سے
حقائق نہیں بدلا کرتے
فـــــرقــــه جدید نام نہاد أهـــل حـــديث کے امتیازی صفات ونظريات
1 ۰ تقلید کا نہ صرف انکار بلکہ اس کو شرک
فی الرسالت سے تعبیر کرنا
2 ۰ بیس رکعت تراویح کو بدعت کہنا
3 ۰ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا
4 ۰ فاتحہ خلف الامام نہ پڑهنے والے کی
نماز کو باطل کہنا
5 ۰ صحابہ کرام کے قول ، فعل ، فہم کو حجت
نہ سمجهنا
6 ۰ اجماع امت کا انکار کرنا
7 ۰ خصوصا امام ابو حنیفہ رحمه الله اور
ان کے متبعین پر لعن طعن کرنا
8 ۰ کرامات اولیاء کا انکار کرنا
9 ۰ علم فقہ کو قرآن وحدیث کے مخالف کہنا
اور برے الفاظ سے یاد کرنا
10 ۰ صحابہ کرام کے اجماع کو حجت نہ سمجهنا
وغیره وغیره

جب کہ حقیقی أهل
الحديث یعنی محدثین کرام میں سے کسی کے بهی یہ نظریات نہیں هیں ، لهذا یہ بات روز روشن
کی طرح واضح هو جاتی هے ، کہ هندوستان میں انگریزی دور میں پیدا شده اس جدید ف
ـــــرقــــه أهـــل حـــديث کا حقیقی أهل الحديث یعنی محدثین
کرام کے ساتھ ذره برابر بهی مناسبت وتعلق نہیں نہیں هے

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s