وسوسه = مقلدین ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے هیں تو پهر مقلدین خلفاء راشدین کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟

وسوسه = مقلدین ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے هیں اور اپنے آپ کو
حنفی شافعی مالکی حنبلی کہتے هیں ، اور حضرات خلفاء راشدین کا علم ومرتبہ ائمہ اربعہ
سے بہت زیاده هے ، تو پهر مقلدین خلفاء راشدین کی تقلید کیوں نہیں کرتے ؟ اور ابوبکری
عمری عثمانی علوی کیوں نہیں کہلاتے ؟ حالانکہ یہ ائمہ اربعہ تو حضور صلى الله تعالى
عليه وسلم کے زمانہ کے بعد آئے هیں ، اسی طرح ان مقلدین نے قیاس اور ائمہ کی رائے کو
پکڑ لیا ، اور الله تعالی کے دین میں وه کچھ داخل کردیا جو اس میں نہیں تها ، احکام
شریعت میں تحریف کردی ، اور چار مذاهب بنا لیئے جو حضور صلى الله تعالى عليه وسلم اور
صحابہ کرام کے زمانہ میں نہیں تهے ، صحابہ کرام کے اقوال کو چهوڑدیا ، اور قیاس کو
اختیارکرلیا ، حالانکہ صحابہ کرام نے قیاس کو چهوڑنے کی تصریح کی هے ، اور انهوں نے
فرمایا أول من قاس إبليس سب سے پہلے قیاس ابلیس نے کیا تها
جواب = یہ وسوسہ کئ وساوس کا مجموعہ هے جیسا کہ ظاهر هے ، اور
ممکن هے آپ نے یہ وساوس کئ مرتبہ سنے بهی هوں ، لیکن آپ کو یہ سن کرحیرانگی هوگی کہ
ان تمام وساوس کو سب سے پہلے پیش کرنے والے شیعہ وروافض تهے ، اور ان تمام وساوس کا
جواب آج سے تقریبا آٹھ سو ( 800 ) سال پہلے اهل سنت والجماعت کی طرف سے شيخ الإسلام
ابن تيميہ رحمہ الله بڑی تفصیل کے ساتھ دے چکے هیں ، اور آج کل یہ وساوس شیعہ وروافض
سے چوری کرکے فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل جہلاء پهیلا رهے هیں ، فرقہ جدید اهل حدیث
میں شامل جہلاء کی خوش قسمتی هے کہ یہ فرقہ جدید شيخ الإسلام ابن تيميہ رحمہ الله کے
زمانہ میں نہیں تهے ، ورنہ ان کا بهی خوب رد کرتے جس طرح کہ روافض کا رد کیا
شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله نے اپنی کتاب (( منهاج السنة
النبوية )) میں ان مذکوره بالا وساوس کا تفصیلی اور منہ توڑ جواب دیا هے
اور یہ ” كتاب منهاج السنة النبوية ” روافض وشیعہ
کی رد میں ایک عظیم کتاب هے ، اولا میں شيخ الإسلام کے جوابات کا خلاصہ ذکرکرتا هوں
، پهر شيخ الإسلام کی اصل عبارت ذکرکروں گا ، شيخ الإسلام نے پہلے ” قال الرافضي
” کہ کر اس کے وساوس نقل کیئے جس کا ذکراوپرهوچکا ، لہذا میں مختصرا شيخ الإسلام
کے جوابات نقل کرتا هوں
1 = رافضى وسوسه . یہ مذاهب
حضور صلى الله تعالى عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنهم کے زمانہ میں موجود نہیں
تهے ؟
جواب از شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله
حضرات ائمہ اربعہ رحمهم الله کے مسائل وهی هیں ، جو حضور صلى
الله تعالى عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنهم سے نقل درنقل هوتے چلے آرهے هیں
، باقی یہ بات کہ ائمہ اربعہ حضور صلى الله تعالى عليه وسلم کے زمانہ میں نہیں تهے
تو اس میں کیاحرج هے ، امام بخاری امام مسلم امام ابوداود امام حفص یا امام ابن کثیر
اور امام نافع وغیرهم ائمہ کرام بهی حضور صلى الله تعالى عليه وسلم کے زمانہ میں نہیں
تهے
2 = رافضى وسوسه . مقلدین نے
اقوال صحابہ کوچهوڑدیا اور قیاس کوپکڑلیا ؟
جواب از شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله
یہ رافضی کا جهوٹ هے مذاهب اربعہ کی کتابوں کودیکهہ لیجیئے وه
اقوال صحابہ سے بهری پڑی هیں ، لہذا ائمہ اربعہ اور جمیع أهل السنة صحابہ کرام رضی
الله عنهم کے اقوال سے باقاعده استدلال کرتے هیں ، اور ان کے اقوال کو اپنے لیئے حجت
ودلیل سمجهتے هیں اور ان پرعمل کرتے هیں ،
اور اهل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کے اجماع سے خروج ومخالفت جائزنہیں
هے ، حتی عام ائمہ مجتهدین نے یہ تصریح کی هے کہ همارے لیئےاقوال صحابہ کرام سے بهی
خروج ومخالفت جائزنہیں هے
.
(( جب کہ اس کے برعکس فرقہ
جدید اهل حدیث کا مذهب یہ هے کہ صحابی کا قول ، فعل ، فہم ، حجت ودلیل نہیں هے ، لہذا
اهل سنت کے طریق پرکون هوا فرقہ جدید اهل حدیث یا مذاهب اربعہ ؟؟
))
3 = رافضى وسوسه . مقلدین نے
چارمذاهب گهڑلیئے جوحضور صلى الله تعالى عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی الله عنهم کے
زمانہ میں نہیں تهے ؟
جواب از شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله
اگر رافضی کی مراد یہ هے کہ ائمہ أربعه نے یہ مذاهب گهڑ لیئے
هیں اورصحابہ کرام کی مخالفت کی ، تو یہ رافضی کا جهوٹ هے ائمہ أربعه پر ، بلکہ ان
ائمہ میں سے هرایک نے کتاب وسنت کی اتباع کی دعوت هی دی هے
.
((کیا کتاب وسنت کے داعی کی
تقلید واتباع کرنے والا ( معاذالله ) مشرک وبدعتی هوتا هے ؟؟؟
))
4 = رافضى وسوسه . مقلدین اپنے
آپ کو ابوبکری ، عمری ، وغیره نہیں کہتے یعنی مذهب أبي بكر وعمر کیوں اختیار نہیں کرتے
؟؟
جواب از شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله
سبب اس کا یہ هے کہ ابوبکر وعمر وغیرهما رضی الله عنهم نے دینی
مسائل کو کتابی شکل میں جمع نہیں کیئے ، بخلاف ائمہ اربعہ کے کہ خود انهوں نے اور ان
کے معتمد ومعتبر شاگردوں نے ان کے بیان کرده تمام مسائل واجتهادات کو کامل طور پرجمع
کردیا ، اس لیئے ان مسائل کی نسبت ائمہ اربعہ کی طرف هوگئ ، اور ان مسائل میں ان ائمہ
کی تقلید واتباع کرنے والے حنفی شافعی وغیره کہلائے
(( یہاں سے شیخ الاسلام نے
فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل بعض جہلاء کا یہ وسوسہ بهی باطل کردیا کہ لوگوں نے بعد
میں نے یہ مسائل امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرلیئے هیں یہ ان کے اپنے مسائل نہیں هیں
))
اسی طرح امام حفص یا امام ابن کثیر اور امام نافع وغیرهم قُراء
کرام کی قراآت ان کی اپنی ایجاد نہیں هے ، بلکہ ان قُراء کرام کی قراآت توخود حدیث
صحیح سے ثابت هیں ، قال صلى الله عليه وسلم إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف فاقرؤوا
ما تيسر منه. أخرجه البخاري ومسلم عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وأخرجه البخاري من
حديث ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أقرأني جبريل على حرف فراجعته فلم أزل
أستزيده ويزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف
.
اور حضرات صحابہ سے تواترسے منقول هوتی چلی آرهی هیں ، لہذا
ان قراآت کی نسبت حضرات قُراء کرام کی طرف هونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ قراآت توان
کی اپنی ایجاد هیں ، اسی فقہ اورمذاهب اربعہ کی ائمہ کی طرف نسبت سے یہ لازم نہیں آتا
کہ یہ فقہ ومسائل فقہ تو ائمہ کی اپنی ایجاد هیں
5 = رافضى وسوسه . صحابہ کرام
نے قیاس کو چهوڑنے کی تصریح کی هے ، اور انهوں نے فرمایا أول من قاس إبليس سب سے پہلے
قیاس ابلیس نے کیا تها٠
جواب از شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله
جمہورعلماء قیاس کا اثبات کرتے هیں ، اور انهوں نے فرمایا کہ
صحابہ کرام سے اجتهاد بالرأي اور قیاس ثابت هے ، جیسا کہ ان سے قیاس کی مذمت بهی ثابت
هے ، لہذا دونوں قول صحیح هیں ، پس مذموم قیاس وه هے جوکسی نص کے مخلف ومعارض هو ،
جیسے ان لوگوں کا قیاس جنهوں نے کہا ( إنما البيع مثل الربا ) الخ
لہذا ائمہ اربعہ ودیگرائمہ مجتهدین کا قیاس کسی نص کے مخالف
نہیں هوتا
شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله
کی جوابات کا خلاصہ وتعبیر وتشریح بتغیر یسیر آپ نے ملاحظہ کیا
، یہاں سے آپ کو یہ بهی پتہ چل گیا کہ فرقہ جدید اهل حدیث نے یہ سب وساوس شیعہ سے چوری
کیئے هیں ، اور عقل مند آدمی کے لیئے اس میں یہ سبق وعبرت بهی واضح هے کہ یہ سب باطل
وساوس هیں ، جس کو فرقہ جدید اهل حدیث میں شامل جاهل شیوخ گردانتے رهتے هیں ، اگران
وساوس میں کوئی وسوسہ حق وسچ هوتا تو شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله نے جوابا یہ
کیوں نہیں کہا کہ اے رافضی تیرا فلاں وسوسہ حق هے مثال کے طور پر رافضی کا وسوسہ کہ
( مقلدین نے چارمذاهب گهڑلیئے هیں ) شيخ الإسلام ابن تيميه رحمه الله نے اس کے جواب
میں یہ کیوں نہیں کہا کہ
اے رافضی تیرا یہ اعتراض بالکل صحیح وحق هے ؟؟؟
اوراسی طرح دیگروساوس کا جواب ( تصدیق ) میں کیوں نہیں دیا ؟؟؟
تمام وساوس کو باطل وفاسد وکاذب کیوں قرار دیا ؟؟؟

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s