الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين وخاتم
النبیین والمرسلین سيدنا محمد وعلى آله وصحبه اجمعین
مقدمة البحث
سرزمین
ہند میں انگریزی دور اقتدار میں اسلام اور اہل اسلام کو کمزور کرنے کے لیے بہت
سارے فرقے پیدا کیے گئے ، ان فرقوں میں سے ایک اہل حدیث کے نام سے بهی بنایا گیا ،
یہ ایک روشن اور ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ اس فرقے کا وجود انگریز دور سے
پہلے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں کہیں نہیں تھا ، لہذا یہ بات اظہر من
الشمس ہے کہ اس فرقہ جدید کا مولد ومسکن ہندوستان ہے ، ابتداء میں اس فرقہ کے لوگ
اہل حدیث اور محمدی اور موحد کہلاتے تھے ، اور وہابی یا غیرمقلد کے نام سے بهی
پکار ے جاتے تھے ، پهر اس فرقہ کے ایک سرکرده عالم محمد حسین بٹالوی صاحب نے
انگریزی حکومت کودرخواست دی کہ ان کوسرکاری طور پر اہل حدیث کا نام دیا جائے ،
لہذا بٹالوی صاحب کی کوششوں سے سرکاری دفاتر اور کاغذات میں اس فرقہ کو اہل حدیث
کے نام سے موسوم کیا گیا ، پهر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس فرقہ کے ابناء مختلف رنگ
بدلتے رہے ، اور گوناگوں روحانی امراض ان میں سرایت کرتے رہے ، حتی کہ مختلف صفات
قبیحہ مثلا بدگمانی ، بدزبانی ، خودرائی ، کذب وفریب ، جہالت وحماقت ، وغیره ان
میں سے اکثر کے اہم اوصاف بن گئے ، سلف صالحين خصوصا امام أعظم أبوحنيفہ اور آپ کے
تلامذه ومتبعین پر طعن وتشنیع اور سب وشتم اور تضلیل وتفسیق اور استہزاء وتمسخر
اور توہین وتضحیک اس فرقہ نومولود کا خاص وصف بن گیا ، جیسا کہ اس فرقہ سے باخبر
افراد خوب جانتے ہیں ، اور بعض جہلاء اس فرقہ میں شامل ہوکر شیخ کے لقب سے پکارے
جانے لگے ، پهر انهیں نام نہاد شیوخ نے ناواقف مسلمانوں کو بے راه کرنے کے لیے بہت
سارے وساوس وکذبات مشہور کیے ، جس کے ذریعے اکثر ناواقف مسلمانوں کو بے راه کیا
جاتا ہے ، اس طرح ایک عام آدمی ان کی ملمع سازی اور وساوس واکاذیب کی جال میں پهنس
جاتا ہے ، اس لیے الله تعالی کی توفیق سے میں نے اراده کیا کہ ان کے مشہور وساوس
واکاذیب کی جمع کروں ، اور ان کا جواب حتی الوسع اختصار کے ساتھ عام فہم انداز میں
ذکر کروں ، تاکہ ایک عام آدمی ان کے وساوس ودجل وفریب سے خوب واقف وخبردار ہوجائے
، ان شاء الله کوئی بهی صاحب عقل وانصاف یہ بحث پڑہے گا تو وه ان وساوس کے باطل
وفاسد ہونے یقین کرے گا ، اور یہ بحث بغور پڑہنے کے بعد ان شاء الله ان وساوس سے
کبهی متاثر نہیں ہوگا ، ہاں اگر کوئی ضد وتعصب وجہل کی وجہ سے ان وساوس کا بطلان
وفساد جاننے کے بعد بهی ان وساوس کو نہیں چهوڑتا ، تو ایسے شخص کا علاج کسی کے پاس
نہیں ہے ، اور ان سطور کی تحریر سے میرا مقصد صرف اور صرف حق واہل حق کا دفاع
وتائید کرنا ہے ، اور باطل وجهوٹ کا رد وتعاقب کرنا ہے ، اور حق وسچ وصواب کی طرف
عام مسلمانوں کی راہنمائی کرنا ہے

وأشرع بتوفيق الله وفضله في الرد على وساوسهم الباطلة ومزاعهم الفاسدة
وأوهامهم السخيفة وأفكارهم الزائغة وآرائهم الكاسدة وأباطيلهم الماكرة وأكاذيبهم
الشنيعة وإتهاماتهم القبيحة وإفتراأتهم الغليظة التي ورثوها من الجهلة الكذابين
والحاسدين الحاقدين المتعصبين الذين أعماهم العداوة والتعصب والبغضاء فأضلوا بها
العوام من الناس فلذالك أردت أن اكتب هذه السطور كي يكون الناس على بصيرة من أمرهم
وماقصدت من تحرير هذه السطور إلا إحقاق الحق وإبطال الباطل وإرشاد الناس الى الحق
والصواب إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي
إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

By Mohsin Iqbal

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s